شاعری

محبت کی حرارت سے ہوا سارا لہو آتش

محبت کی حرارت سے ہوا سارا لہو آتش تخیل شبنمی ہے گرچہ میری گفتگو آتش نگار زندگی میں اس کے دم سے ہی اجالا ہے چمن ویرانہ ہوتا گر نہ ہوتی آرزو آتش خوش آتی ہے ہم آشفتہ سروں کو اس کی یہ عادت کبھی مانند شبنم اور ہوتا ہے کبھی آتش جھلس جاتی ہیں وہ آنکھیں جنہیں کچھ خواب بننے تھے بنا دی ...

مزید پڑھیے

خوش خرامی کو تری ایک چمن زار تو ہو

خوش خرامی کو تری ایک چمن زار تو ہو گل سے بلبل کو جہاں باہمی تکرار تو ہو رنگ کے ساتھ لہو بھرنے کو تیار تو ہو تیری تصویر بنے کیسے کہ فن کار تو ہو جنگ اور عشق میں ہر بات ہے جائز لیکن جیت اس کی ہے جو آمادۂ پیکار تو ہو وہ محبت ہے مجھے باعث عزت جس میں کبھی انکار ہو لیکن کبھی اقرار تو ...

مزید پڑھیے

زندگی کرنے کے حیلے نہ بہانے آئے

زندگی کرنے کے حیلے نہ بہانے آئے ہم تو دنیا میں فقط خاک اڑانے آئے یاد ماضی میں فراموش کیا فردا کو عرصۂ عشق میں ایسے بھی زمانے آئے دل وہ بستی ہے اجڑ جائے تو بستی ہی نہیں کتنے سادہ ہیں اسے پھر سے بسانے آئے مسئلہ کوئی نہیں ایسا جو حل ہو نہ سکے بس اسی بات پہ دنیا کو منانے آئے وہ ...

مزید پڑھیے

یہ جو فطرت میں خاکساری ہے

یہ جو فطرت میں خاکساری ہے باعث فخر وضع داری ہے صرف دل پر نہیں کوئی قابو اور جو کچھ ہے اختیاری ہے کچھ نہیں کائنات اس کے سوا اک تماشا ہے اک مداری ہے اپنے دل کی شکستگی کے سبب میرؔ صاحب سے رشتے داری ہے اس کا انجام خوب ہے معلوم وقت بے مہر سے جو پیاری ہے کیا زمانہ مٹا سکے گا اسے یہ ...

مزید پڑھیے

ہاں وہ میں ہی تھا کہ جس نے خواب ڈھویا صبح تک

ہاں وہ میں ہی تھا کہ جس نے خواب ڈھویا صبح تک کون تھا وہ جو مرے بستر پہ سویا صبح تک رات بھر کمرے میں میں دبکا رہا اور آسماں میری فرقت میں مرے آنگن میں رویا صبح تک بلب روشن تھا اندھیرے کو اجازت تھی نہیں پھر بھی وہ بستر کے نیچے خوب سویا صبح تک لوگ اکڑی پیٹھ لے کر دفتروں سے چل ...

مزید پڑھیے

وجود اس کا کبھی بھی نہ لقمۂ تر تھا

وجود اس کا کبھی بھی نہ لقمۂ تر تھا وہ ہر نوالے میں دانتوں کے بیچ کنکر تھا الگ الگ تھے دل و ذہن بدنصیبوں کے عجیب بات ہے ہر دھڑ پہ غیر کا سر تھا نہ جانے ہم سے گلہ کیوں ہے تشنہ کاموں کو ہمارے ہاتھ میں مے تھی نہ دور ساغر تھا لہولہان ہی کر دیتا پائے لغزش کو ثبوت دیتا کہ وہ راستے کا ...

مزید پڑھیے

ہر گل تازہ ہمارے ہاتھ پر بیعت کرے

ہر گل تازہ ہمارے ہاتھ پر بیعت کرے اس کی زلفوں تک پہنچنے کے لیے منت کرے دل بچائے یا سراہے آتش رخسار کو جس کا گھر جلتا ہو وہ شعلوں کی کیا مدحت کرے آم کے پھولوں کو خود ہی جھاڑ دے اور اس کے بعد بے ثمر شاخوں سے آوارہ ہوا حجت کرے شہر والوں کو بھی حاجت ہے اناجوں کی مگر خوش لباسی موسم ...

مزید پڑھیے

سوکھے ہوئے پتوں میں آواز کی خوشبو ہے

سوکھے ہوئے پتوں میں آواز کی خوشبو ہے الفاظ کے صحرا میں تخیل کا آہو ہے جاتے ہوئے سورج کی اک ترچھی نظر ہی تھی تب شرم کا سندور تھا اب ہجر کا گیسو ہے مسحور فضا کیوں ہے مجبور صبا کیوں ہے رنگوں کے حصاروں میں نغمات کا جادو ہے موجوں سے الجھنا کیا طوفان سے گزرنا کیا ہر ڈوبنے والے کو ...

مزید پڑھیے

جو حوصلہ ہو تو ہلکی ہے دوپہر کی دھوپ

جو حوصلہ ہو تو ہلکی ہے دوپہر کی دھوپ تنک مزاجوں کو لگتی ہے یوں قمر کی دھوپ مرے جنون قدم نے بڑا ہی کام کیا جو گرد راہ بڑھی کم ہوئی سفر کی دھوپ صفائے شیشۂ عارض پہ کھل گئی ہے شفق جو ان کے رخ پہ پڑی ہے مری نظر کی دھوپ شب وصال کی یہ شام بھی ہے رشک سحر مہک مہک کے سرکتی ہے بام و در کی ...

مزید پڑھیے

خواب گاہوں سے اذان فجر ٹکراتی رہی

خواب گاہوں سے اذان فجر ٹکراتی رہی دن چڑھے تک خامشی منبر پہ چلاتی رہی ایک لمحہ کی خطا پھیلی تو ساری زندگی چبھتے ذرے کانچ کے پلکوں سے چنواتی رہی کب یقیں تھا کوئی آئے گا مگر ظالم ہوا بند دروازے کو دستک دے کے کھلواتی رہی لمس حرف و صوت کی لذت سے واقف تھی مگر پہلوئے آواز میں تخئیل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 197 سے 4657