شاعری

دل لگا کر پڑھائی کرتے رہے

دل لگا کر پڑھائی کرتے رہے عمر بھر امتحاں سے ڈرتے رہے ایک ادنیٰ ثواب کی خاطر جانے کتنے گناہ کرتے رہے جان پر کون دم نہیں دیتا صورت ایسی تھی لوگ مرتے رہے کوئی بھی راہ پر نہیں آیا حادثے ہی یہاں گزرتے رہے حیرتیں حیرتوں پہ وارفتہ جھیل میں ڈوبتے ابھرتے رہے آخرش ہم بھی اتنا سوکھ ...

مزید پڑھیے

اشارے مدتوں سے کر رہا ہے

اشارے مدتوں سے کر رہا ہے ابھی تک صاف کہتے ڈر رہا ہے بچانا چاہتا ہے وہ سبھی کو بہت مرنے کی کوشش کر رہا ہے سمندر تک رسائی کے لیے وہ زمانے بھر کا پانی بھر رہا ہے کہیں کچھ ہے پرانے خواب جیسا مری آنکھوں سے ظالم ڈر رہا ہے زمانے بھر کو ہے امید اسی سے وہ ناامید ایسا کر رہا ہے

مزید پڑھیے

وہ بحر و بر میں نہیں اور نہ آسماں میں ہے

وہ بحر و بر میں نہیں اور نہ آسماں میں ہے جو راز زیست مرے شوق بیکراں میں ہے مجھے قرار بجز شوق‌‌‌ بے قرار نہیں سکون زیست مجھے شوخئ بتاں میں ہے مجھے قبول نہیں ایسا راز سر بستہ جو چشم عقل سے پوشیدہ لا مکاں میں ہے مری حیات فقط جستجوئے پیہم ہے مرا مقام ستاروں کے کارواں میں ہے میں ...

مزید پڑھیے

زلف خم دار میں نور رخ زیبا دیکھو

زلف خم دار میں نور رخ زیبا دیکھو چشم بددور مرا حسن تمنا دیکھو اب وہ آرائش گیسو سے ہوا ہے فارغ اب اگر ہمت موسیٰ ہو تو جلوہ دیکھو بہر دیدار کرو دیدۂ مجنوں پیدا جرأت شوق سے پھر جلوۂ لیلیٰ دیکھو آج پھر شوق دل زار کی قسمت جاگی آج پھر اس نے مجھے پیار سے دیکھا دیکھو نگہ لطف سے دیکھا ...

مزید پڑھیے

چلا ہوں گھر سے میں احوال دل سنانے کو

چلا ہوں گھر سے میں احوال دل سنانے کو وہ منتظر ہیں مرا ضبط آزمانے کو رقیب ساتھ ہے اور زیر لب تبسم ہے عجب طرح سے وہ آیا ہے دل دکھانے کو اگرچہ بزم طرب میں ہوس کا غلبہ ہے میں آ گیا ہوں محبت کے گیت گانے کو میں جا رہا ہوں وہاں جبکہ از رہ تفریح سجی ہے بزم مرا شوق آزمانے کو روش روش میں ...

مزید پڑھیے

وہ آفتاب میں ہے اور نہ ماہتاب میں ہے

وہ آفتاب میں ہے اور نہ ماہتاب میں ہے جو روشنی کہ ترے حس بے نقاب میں ہے چمن میں لالہ و گل شرمسار ہوتے ہیں عجب طرح کا اثر حس بے نقاب میں ہے میں اپنے عشق فراواں پہ ناز کرتا ہوں مرا کمال مرے حسن انتخاب میں ہے اجڑ گیا ہے مرا گلشن حیات مگر جنون شوق مرا عالم شباب میں ہے نجات اس کی بجز ...

مزید پڑھیے

چل دیا وہ اس طرح مجھ کو پریشاں چھوڑ کر

چل دیا وہ اس طرح مجھ کو پریشاں چھوڑ کر موسم گل جیسے جائے ہے گلستاں چھوڑ کر گو بھروسا ہے مجھے اپنے خلوص شوق پر کون آئے گا یہاں جشن بہاراں چھوڑ کر وہ جو اپنے ساتھ لایا تھا گلستاں کی بہار جا رہا ہے اب کہاں وہ گھر کو ویراں چھوڑ کر یوں لگا مجھ کو کہ گویا حشر برپا ہو گیا یک بیک وہ چل ...

مزید پڑھیے

جب عاشقی میں میرا کوئی رازداں نہیں

جب عاشقی میں میرا کوئی رازداں نہیں ایسی لگی ہے آگ کہ جس کا دھواں نہیں گو میں شریک بزم سر آسماں نہیں وہ راز کون سا ہے جو مجھ پر عیاں نہیں میں سوچتا ہوں زیست میں ناکام ہو گیا میرے خلوص شوق کا جب امتحاں نہیں میرا مقام عشق بتاں میں ہے بے مثال گو میں رہین‌ منت پیر مغاں نہیں وہ ...

مزید پڑھیے

چمن میں سیر گل کو جب کبھی وہ مہ جبیں نکلے

چمن میں سیر گل کو جب کبھی وہ مہ جبیں نکلے مری تار رگ جاں سے صدائے آفریں نکلے سمجھ جاتا ہوں فوراً کیا ہے مطلب لن ترانی کا مری خواہش پہ جب پردے سے وہ پردہ نشیں نکلے فلک نے جب کیا حملہ مری شاخ نشیمن پر جو دشمن سامنے آئے وہ اپنے ہم نشیں نکلے وہ جن سے شہد مانگا تھا انہوں نے زہر دے ...

مزید پڑھیے

نہیں یہ رسم محبت کہ اشتباہ کرو

نہیں یہ رسم محبت کہ اشتباہ کرو کیا ہے عشق تو ہر حال میں نباہ کرو نہیں ہے عشق تو پھر زندگی میں کچھ بھی نہیں کسی سے عشق کرو اور بے پناہ کرو کروں گا میں تری محفل کی رونقیں دو چند میری طرف بھی اگر لطف کی نگاہ کرو سنا ہے سیر چمن کو وہ آ رہے ہیں آج جنون شوق کو بر وقت انتباہ کرو شعار‌ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 195 سے 4657