بلند حوصلے عالی جناب رکھتے ہیں
بلند حوصلے عالی جناب رکھتے ہیں ہم اپنی پلکوں پہ روشن سے خواب رکھتے ہیں ہزیمتوں کا کہیں بھی تو اندراج نہیں ہر اک ورق نئی فتحوں کے باب رکھتے ہیں ہم اپنی پیاس پہ رکھتے ہیں لوگو ضبط عظیم پتہ ہے خواب کے صحرا سراب رکھتے ہیں کبھی دراز نہ ہم نے کیا ہے دست طلب کہ فضل رب پہ یقیں بے حساب ...