مری ذات کا ہیولیٰ تری ذات کی اکائی

مری ذات کا ہیولیٰ تری ذات کی اکائی
کوئی ہم سفر ہے میرا کہ ہے تیری خود نمائی


میں ہوں پر سکوں ازل سے میں ہوں پر سکوں ابد تک
مگر آنکھ کہہ رہی ہے نہیں تجھ سے آشنائی


میں تو لٹ چکا زمانے! مرے پاس کیا رہا ہے
مرے ہونٹ سل چکے ہیں میں بھلا دوں کیا دہائی


یہ فرار کا ہے لمحہ کہ قرار کی ہے صورت
تری چاند سی جبیں پر نہیں داغ بے وفائی


یہی عمر بھر کا دکھ ہے یہی زندگی کا سکھ ہے
نہ کوئی فریب ہستی نہ شعور دل ربائی


میں تو کل بھی تھا سفر میں میں ہوں آج بھی سفر میں
وہی دور میری منزل وہی میری جگ ہنسائی


میں زہیرؔ سوچتا ہوں کبھی زخم نوچتا ہوں
جانے کب نصیب جاگے ملے فکر سے رہائی