نہ وہ گھر رہا نہ وہ بام و در نہ وہ چلمنیں نہ وہ پالکی
نہ وہ گھر رہا نہ وہ بام و در نہ وہ چلمنیں نہ وہ پالکی مگر اب بھی میری زباں پہ ہے وہی داستاں سن و سال کی چلو بال و پر کو سمیٹ لیں کریں فکر اب کسی ڈال کی یہ غروب مہر کا وقت ہے یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی سبھی موسموں سے گزر گیا کوئی بوجھ دل پہ لئے ہوئے مجھے راس آئی نہ رت کوئی نہ وہ ہجر کی ...