ہر ایک لمحہ تری یاد میں بسر کرنا

ہر ایک لمحہ تری یاد میں بسر کرنا
ہمیں بھی آ گیا اب خود کو معتبر کرنا


سدا سے ایک صدا آ رہی ہے کانوں میں
عظیم کام ہے لوگوں کے دل میں گھر کرنا


ہیں یوں تو گھر میں بھی خدشات زندگی کو مگر
عجیب لگتا ہے اس دور میں سفر کرنا


کہیں شہادتیں پائیں کہیں بنے غازی
ہر ایک معرکہ آتا ہے ہم کو سر کرنا


وہ ایک شاہ جو تڑپا وطن کی مٹی کو
الٰہی ایسے کسی کو نہ در بدر کرنا


دلوں کے فرق مٹانے کی بات کیجے زبیرؔ
ادھر کی بات مناسب نہیں ادھر کرنا