شاعری

ہر حکمران آ کے بصد ناز و افتخار

ہر حکمران آ کے بصد ناز و افتخار سچی زمیں پہ کھینچتا ہے جھوٹ کا حصار منصف کے بھی گلے میں ہے اک طوق فرد جرم انصاف کس سے مانگتے ہم سے گناہ گار عالم کی گفتگو سے بھی آتی ہے بوئے خوں سودا نے اپنے شعروں میں لکھا ہے بار بار ہر مدرسے میں درس شہادت ہے سرخ رو درس حیات سارے ہوئے نذر انتشار

مزید پڑھیے

ایک تیرا غم جس کو راہ معتبر جانیں

ایک تیرا غم جس کو راہ معتبر جانیں اس سفر میں ہم کس کو اپنا ہم سفر جانیں جس سے کچھ نہ کہہ پائیں جان گفتگو ٹھہرے جس سے کم ملیں اس کو سب سے بیشتر جانیں اپنا عکس بھی اکثر ساتھ چھوڑ جاتا ہے یہ مآل خود بینی کاش شیشہ گر جانیں تار تار کر ڈالیں صبر و ضبط کا دامن زخم زخم دکھلا دیں ظرف چارہ ...

مزید پڑھیے

بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں

بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں ٹوٹا جال سمندر پر پھیلائے ہوئے ہوں وحشت کرنے سے بھی دل بیزار ہوا ہے دشت و سمندر آنچل میں سمٹائے ہوئے ہوں وہ خوشبو بن کر آئے تو بے شک آئے میں بھی دست صبا سے ہاتھ ملائے ہوئے ہوں ٹوٹے پھوٹے لفظوں کے کچھ رنگ گھلے تھے ان کی مہندی آج تلک بھی رچائے ...

مزید پڑھیے

کیوں اے غم فراق یہ کیا بات ہو گئی

کیوں اے غم فراق یہ کیا بات ہو گئی ہم انتظار صبح میں تھے رات ہو گئی بہکے ہوئے بھٹکتے ہوئے کارواں کی خیر رہبر سے راہزن کی ملاقات ہو گئی دیوانگی کی خیر نہ مانگیں تو کیا کریں دیوانگی ہی راز عنایات ہو گئی سینوں میں سوز و ساز محبت نہیں رہا دنیا رہین گردش حالات ہو گئی لو ڈوبتوں نے ...

مزید پڑھیے

رونقیں اب بھی کواڑوں میں چھپی لگتی ہیں

رونقیں اب بھی کواڑوں میں چھپی لگتی ہیں محفلیں اب بھی اسی طرح سجی لگتی ہیں روشنی اب بھی درازوں سے امڈ آتی ہے کھڑکیاں اب بھی صداؤں سے کھلی لگتی ہیں ساعتیں جو تری قربت میں گراں گزری تھیں دور سے دیکھوں تو اب وہ بھی بھلی لگتی ہیں اب بھی کچھ لوگ سناتے ہیں سنائے ہوئے شعر باتیں اب بھی ...

مزید پڑھیے

سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز تھا

سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز تھا کہیں پر راہ بھولے تھے نہ رک کر دم لیا تھا زمیں پر گر رہے تھے چاند تارے جلدی جلدی اندھیرا گھر کی دیواروں سے اونچا ہو رہا تھا چلے چلتے تھے رہرو ایک آواز اخی پر جنوں تھا یا فسوں تھا کچھ تو تھا جو ہو رہا تھا میں اس دن تیری آمد کا نظارہ سوچتی تھی وہ ...

مزید پڑھیے

قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم

قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم ڈوریاں مضبوط ہوں گی چھٹتے جائیں گے ہم تیرا رخ سائے کی جانب میری آنکھیں سوئے مہر دیکھنا ہے کس جگہ کس وقت مل پائیں گے ہم گھر کے سارے پھول ہنگاموں کی رونق ہو گئے خالی گلدانوں سے باتیں کرکے سو جائیں گے ہم ادھ کھلی تکیے پہ ہوگی علم و حکمت کی ...

مزید پڑھیے

ترا خیال فروزاں ہے دیکھیے کیا ہو

ترا خیال فروزاں ہے دیکھیے کیا ہو خموش گردش دوراں ہے دیکھیے کیا ہو نہ جانے کتنے ستارے یہ کہتے ڈوب گئے سحر کا رنگ پریشاں ہے دیکھیے کیا ہو کلی اداس چمن سوگوار گل خاموش یہ انتظار بہاراں ہے دیکھیے کیا ہو عجیب بات ہے ان تیرگی کی راہوں میں نفس نفس میں چراغاں ہے دیکھیے کیا ہو بھڑک ...

مزید پڑھیے

ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی

ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی دونوں فرض نبھا کر اس نے ساری عمر عبادت کی دست طلب کچھ اور بڑھاتے ہفت اقلیم بھی مل جاتے ہم نے تو کچھ ٹوٹے پھوٹے جملوں ہی پہ قناعت کی شہرت کے گہرے دریا میں ڈوبے تو پھر ابھرے نہیں جن لوگوں کو اپنا سمجھا جن لوگوں سے محبت کی ایک دوراہا ...

مزید پڑھیے

رک جا ہجوم گل کہ ابھی حوصلہ نہیں

رک جا ہجوم گل کہ ابھی حوصلہ نہیں دل سے خیال تنگی داماں گیا نہیں جو کچھ ہیں سنگ و خشت ہیں یا گرد رہگزر تم تک جو آئے ان کا کوئی نقش پا نہیں ہر آستاں پہ لکھا ہے اب نام شہر یار وابستگان دل کے لئے کوئی جا نہیں صد حیف اس کے ہاتھ ہے ہر زخم کا رفو دامن میں جس کے ایک بھی تار وفا نہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 125 سے 4657