نہ منہ میں اک نوالہ جا رہا ہے
نہ منہ میں اک نوالہ جا رہا ہے
فقط دھوکے میں ڈالا جا رہا ہے
نکالا جا چکا ہوں دہر سے جب
تو کیوں دل سے نکالا جا رہا ہے
یہ کافر بس تمہیں پانے کی خاطر
بہانے سے شوالہ جا رہا ہے
تیری یادیں سنجوتا ہوں میں ایسے
کہ جیسے سانپ پالا جا رہا ہے
سفر مشکل سمجھئے بس وہاں تک
جہاں تک یہ اجالا جا رہا ہے