جینا مشکل ہے یہاں آسان سب سے خودکشی
جینا مشکل ہے یہاں آسان سب سے خودکشی
اس لئے لگتی بھلی ہے زندگی سے خودکشی
عشق تو اب نام ہے اس کا تھا پہلے خودکشی
عشق کرنے والوں کو ملتی ہے راہ خودکشی
کون دیتا ہے کسی کو حوصلہ یاں جینے کا
کہہ رہے اک دوسرے کو کر لے پیارے خودکشی
ایک مدت بعد آئے آج وہ محفل میں جب
زندگی تھی سامنے پھر کیسے کرتے خودکشی
زندگی کے تجربے کیسے ملے یاں پر شکیبؔ
جو کہ آخر خود سے اک دن کر لی تم نے خودکشی
تن کسی کے پاس ہے تو دل کسی کے ساتھ میں
سیج پر بیٹھے ہوئے وہ کر رہے ہیں خودکشی
جینے کی حسرت نہیں رستہ یا منزل بھی نہیں
جی رہے ہیں اس طرح بہتر تھی اس سے خودکشی
قطرہ قطرہ مرنے سے مادھوؔ ہے بہتر بس یہی
سوچتا ہوں میں لگا لوں اب گلے سے خودکشی