ہو زمانہ ادھر ادھر ہم تم
ہو زمانہ ادھر ادھر ہم تم
ایک دوجے کے دل جگر ہم تم
دل کی منزل کے ہم سفر ہم تم
ہو کے دنیا سے بے خبر ہم تم
آسماں سے جو دیکھے چاند کبھی
چاند کو آئے بس نظر ہم تم
وصل کی رات مختصر سی لگی
رہے باتوں میں رات بھر ہم تم
آئے کوئی شکن نہ چہرے پر
راستے میں ملیں اگر ہم تم
وقتی ہر شے ہے اس جہاں میں پر
عشق کے دہر میں امر ہم تم