دل اگر بے قرار ہے تو ہے

دل اگر بے قرار ہے تو ہے
تم کو بھی مجھ سے پیار ہے تو ہے


اب گزارو سکون سے دن تم
کھویا میرا قرار ہے تو ہے


تجھ کو قسمت عطا کرے ساون
اشک کی یاں پھہار ہے تو ہے


تیری راہیں سجی ہو پھولوں سے
میرے جیون میں خار ہے تو ہے


راہ الفت سے اب نہ لوٹوں گا
میرا دل ہی شکار ہے تو ہے


زندگی پر نہیں یقیں مجھ کو
موت پے اعتبار ہے تو ہے


سچ ہمیشہ اکیلا رہتا ہے
جھوٹ کی گر قطار ہے تو ہے


زندگی بے وفا نہیں لیکن
موت کا انتظار ہے تو ہے