ہے گلہ اپنی جگہ اور عاشقی اپنی جگہ

ہے گلہ اپنی جگہ اور عاشقی اپنی جگہ
درد دل کے ساتھ ملنے کی خوشی اپنی جگہ


وصل ہو یا ہجر ہو کچھ ہوش رہتا ہے کہاں
لذتیں اپنی جگہ ہیں بے خودی اپنی جگہ


روٹھ کر سینہ سے لگنے والے نے مجھ سے کہا
پیار ہے اپنی جگہ اور بے رخی اپنی جگہ


عمر جب تک مہرباں ہے کھل کے جینا چاہیئے
موت ہے اپنی جگہ اور زندگی اپنی جگہ


میری غزلوں پہ مقرر کہتے ہیں سارے عدو
دشمنی اپنی جگہ ہے شاعری اپنی جگہ