نہ ہی رنج ہے نہ ملال ہے

نہ ہی رنج ہے نہ ملال ہے
تیرے ہجر کا یہ کمال ہے


میں بیاں کروں اسے کس قدر
تیرے بن جو گزرا یہ سال ہے


وہ جو آج چل رہے کجروی
یہ تو دشمنوں کی سی چال ہے


میں بھٹک رہا یوں ہی در بہ در
تیرے عشق ہی میں یہ حال ہے


کوئی زخم دے نہ سوا ترے
ترا ایسا ہی تو خیال ہے