خیر امت ہیں محبت ہیں وفا پیار ہیں ہم

خیر امت ہیں محبت ہیں وفا پیار ہیں ہم
امن عالم کے زمانے میں علم دار ہیں ہم


کیوں ہمیں لوگ سمجھتے ہیں کہ غدار ہیں ہم
روز اول سے وطن تیرے وفادار ہیں ہم


جنگ آزادی میں ہم نے بھی کیا خود کو نثار
جان دینے کے لئے آج بھی تیار ہیں ہم


بغض و کینے سے کدورت سے ہے نفرت ہم کو
آشتی امن و محبت کے پرستار ہیں ہم


کوئی غم خوار نہ مونس ہے زمانے بھر میں
ایک مدت سے مصیبت میں گرفتار ہیں ہم


رب عالم ہے فقط ایک سہارا تیرا
ورنہ دنیا میں تو بے یار و مددگار ہیں ہم


کوئی بڑھ کر ہمیں سینے سے لگا لے اے ذکیؔ
تنگ نظری سے عداوت سے تو بیزار ہیں ہم