Manju Kachhawa Ana

منجو کچھاوا انا

منجو کچھاوا انا کے تمام مواد

6 غزل (Ghazal)

    چھین کر کوئی سکوں بس دے گیا ہے اضطراب

    چھین کر کوئی سکوں بس دے گیا ہے اضطراب جانے کیسے ربط کی یہ ابتدا ہے اضطراب ہر گھڑی مر کر گزاریں سانس اٹکی ہی رہے جیتے جی مرنے کے جیسی ہی سزا ہے اضطراب منزلوں کے بھی نشاں مبہم ہی کرتا جائے گا بس مسلسل اک سفر ہے راستہ ہے اضطراب کھنڈروں کی یا بیاباں کی طرف لے جائے جو ایسی بھٹکاتی ...

    مزید پڑھیے

    جس شخص نے بھی کھائے ہیں سنگین زخم دل

    جس شخص نے بھی کھائے ہیں سنگین زخم دل دیتے اسی کو ہیں یہاں تسکین زخم دل بے رنگ ہو گئے ہیں گل و سبزہ و بہار لیکن ابھی تلک ہیں یہ رنگین زخم دل ہنس کر مذاق جب بھی اڑایا ہے درد کا تب تب لگا کہ ہو گئے غمگین زخم دل بیٹھی ہوئی تھیں تخت پہ خوشیاں تو ٹھاٹ سے ان کو ہٹا کے ہو گئے آسین زخم ...

    مزید پڑھیے

    جب تک بلندیوں پہ ادب سے کھڑی رہی

    جب تک بلندیوں پہ ادب سے کھڑی رہی یہ کامرانی سب کی نظر میں بڑی رہی وحشت میں وہ صدائیں تو دیتا رہا مجھے میں خاک تھی تو خاک میں ہی بس پڑی رہی دل کش مجھے بنایا مصور نے جانے کیوں جو بندشوں کے فریم میں ہر دم جڑی رہی اس نے کہا کہ جسم کے تھرو روح کی ہے راہ میں بائی پاس روڈ کی ضد پر اڑی ...

    مزید پڑھیے

    جو غیر کے جذبات کی تعظیم کرے گا

    جو غیر کے جذبات کی تعظیم کرے گا وہ اپنی خطاؤں کو بھی تسلیم کرے گا میں اس کو ملوں گی بھی تو ٹکڑوں میں ملوں گی تسلیم سے پہلے مجھے تقسیم کرے گا حق بات بھی باطل سی لگے شیریں زباں میں وہ لہجے کو اس واسطے اب نیم کرے گا وہ کام جہاں بھر کی دوائیں نہ کریں گی جو کام محبت کا فقط میم کرے ...

    مزید پڑھیے

    جو ستارہ ٹوٹ کر پامال ہے اب خاک میں

    جو ستارہ ٹوٹ کر پامال ہے اب خاک میں یہ کبھی تابندہ تھا جب رہتا تھا افلاک میں میں تو مٹی ہی تھی اور مٹی ہی رہ جاتی مگر کوزہ گر کے ہاتھ میں یا تھا فسوں کچھ چاک میں واقعہ تیری شرارت کا کوئی یاد آ گیا ہنس پڑی بے ساختہ میں لمحۂ نمناک میں کاٹ دو میرے پروں کو روک دو میری اڑان بکھرے ہیں ...

    مزید پڑھیے

تمام