چھین کر کوئی سکوں بس دے گیا ہے اضطراب
چھین کر کوئی سکوں بس دے گیا ہے اضطراب جانے کیسے ربط کی یہ ابتدا ہے اضطراب ہر گھڑی مر کر گزاریں سانس اٹکی ہی رہے جیتے جی مرنے کے جیسی ہی سزا ہے اضطراب منزلوں کے بھی نشاں مبہم ہی کرتا جائے گا بس مسلسل اک سفر ہے راستہ ہے اضطراب کھنڈروں کی یا بیاباں کی طرف لے جائے جو ایسی بھٹکاتی ...