جب بھی کاغذ پہ تری آنکھ کا لکھا کاجل
جب بھی کاغذ پہ تری آنکھ کا لکھا کاجل
اشک بن کر مرے الفاظ سے ٹپکا کاجل
اپنی خاموش تمناؤں کی کھڑکی کھولو
تم بھی محسوس کرو اپنا مہکتا کاجل
پیار کے دیپ جلاتی ہے ہوائیں جیسے
یوں ہی پلکوں پہ چمکتا ہے سنہرا کاجل
جب سیاہی نہ میسر ہو قلم میں جاناں
میرے اشعار کو دیتا ہے اجالا کاجل
اس کی آنکھوں سے ٹپکتے ہیں اجالے گھر میں
شب کے ماتھے پہ نظر آئے چمکتا کاجل
رات گھر جاتی ہے افروزؔ اندھیروں میں جب
اپنی آنکھوں میں لگاتی ہے سحر کا کاجل