ہوک اٹھتی ہے مرے قلب کی گہرائی میں

ہوک اٹھتی ہے مرے قلب کی گہرائی میں
اس کی یاد آتی ہے جب رات کی تنہائی میں


اب تو دو وقت کی روٹی بھی نہیں ملتی ہے
زندگی کیسے کٹے گی مری مہنگائی میں


آج آیا وہ مرے گھر تو یہ محسوس ہوا
ماہتاب اترا ہو جیسے مری انگنائی میں


میری آنکھوں سے نکل آئے خوشی کے آنسو
بیٹی رخصت جو ہوئی گونجتی شہنائی میں


گھر میں مہماں اگر آئیں تو خوشی ہوتی ہے
میں کسر کچھ نہیں رکھتا ہوں پذیرائی میں


نہ تو روٹی ہی میسر ہے نہ کپڑا نہ مکاں
زندگی یوں بھی گزر جاتی ہے کٹھنائی میں


حسن ایسا ہے کہ آئینے کو حیراں کر دے
اک وفا کی ہی کمی ہے مرے ہرجائی میں


کیسے اشعار میں لائے گا غزل کی خوشبو
وہ جو مصروف ہے بس قافیہ پیمائی میں


داخلہ میرا ہی ممنوع ہے گلشن میں ذکیؔ
جب کہ خوں میں نے دیا باغ کی زیبائی میں


اے ذکیؔ میں نے بھی یہ خواہ نہیں سمجھا تھا
ان کی سازش رہی شامل مری پسپائی میں