ہوتی ہیں جل سے جیسے ندیوں کی عزتیں

ہوتی ہیں جل سے جیسے ندیوں کی عزتیں
صدق مقال سے ہیں یاروں کی عزتیں


جن کو مرے نبی کی خلوت ہوئی عطا
افضل ہیں بستیوں سے غاروں کی عزتیں


سجدے میں سر کٹا کے کربل کی ریت پر
شبیر نے بڑھائیں سجدوں کی عزتیں


دیکھو ذرا تماشہ جھوٹوں کے جھنڈ میں
نیلام ہو رہی ہیں سچوں کی عزتیں


بیٹھے نہ ہوتے پھر سے عیار تخت پر
ہوتیں اگر وطن میں اچھوں کی عزتیں


اس شہر کے بڑوں پر کتوں کو چھوڑ دو
لٹتی ہوں جس نگر میں بچوں کی عزتیں


ہجرت کی راہ پر ہوں پلٹوں گا جیت کر
قائم رہیں ظفرؔ جو راہوں کی عزتیں