دل لگانے ہم چلے تھے دل کے سو ٹکڑے ہوئے
دل لگانے ہم چلے تھے دل کے سو ٹکڑے ہوئے
کیا کہیں اک عشق میں کار جنوں کتنے ہوئے
ہم کو لگتا تھا نکل آئے ہیں سائے سے ترے
لوگ لیکن پوچھتے ہیں کیا تھے تم کیسے ہوئے
اب نہ کوئی آرزو ہے اور نہ وحشت ہی رہی
اک گھڑی ہے اس کے کانٹوں سے ہیں بس لٹکے ہوئے
ہم کو جو سننا تھا وہ بولا انہوں نے کس گھڑی
ہوش ان کو بھی نہ تھا جب ہم بھی تھے بہکے ہوئے
بیچ رستے میں کہا جب ہم سفر نے الوداع
لوٹ کر ہم بھی چلے نقش قدم گنتے ہوئے