بچھڑ گیا تھا تو اس کا خیال کیوں آیا

بچھڑ گیا تھا تو اس کا خیال کیوں آیا
یہی تو دکھ ہے کہ شیشے میں بال کیوں آیا


نئی کرن سے ابھی آشنا ہوئی تھی زمیں
جواں تھا مہر یہ اس پر زوال کیوں آیا


جب ایک برگ نہ اشجار آرزو پہ رہا
تو مست موسم باد شمال کیوں آیا


ہر آرزو ہوئی کیوں اس کی بزم میں گھائل
ہر ایک خواب وہاں سے نڈھال کیوں آیا


اگر نہیں ہے تجھے رنج بے وفائی کا
تو تیرے لہجے میں اتنا ملال کیوں آیا