Rishi Patialvi

رشی پٹیالوی

رشی پٹیالوی کی غزل

    اہل عشق کی ہستی کیا عجیب ہستی ہے

    اہل عشق کی ہستی کیا عجیب ہستی ہے مرگ ناگہانی کو زندگی ترستی ہے نام ہے سکوں جس کا جنس وہ نہیں ملتی اشک جس کا حاصل ہیں وہ خوشی تو سستی ہے جس جگہ محبت سے حسن و عشق ملتے ہیں کون سی وہ دنیا ہے کون سی وہ بستی ہے سو طرح رلاتی ہے بھول کر اگر ہنسئے روئیے تو یہ دنیا کھلکھلا کے ہنستی ہے کیا ...

    مزید پڑھیے

    یہ بھی نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

    یہ بھی نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی یہ بھی ہے سچ کہ دید کی حسرت نہیں رہی دل ان کی اس ادا سے بھی مانوس ہو گیا اب جور بے رخی کی شکایت نہیں رہی دونوں بدلتے وقت کے سانچے میں ڈھل گئے وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی کیا دیکھتے ہیں دیکھ کے پیش نظر انہیں گویا نگہ میں دید کی طاقت نہیں ...

    مزید پڑھیے

    دعوئ دید کیا جب کسی شیدائی نے

    دعوئ دید کیا جب کسی شیدائی نے چار سو آگ چھڑک دی تری رعنائی نے لاکھ دھوکے دئے رنگینی و رعنائی نے آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا ترے شیدائی نے ان مریضان محبت کی دوا ہے نہ دعا کر دیا جن پہ کرم تیری مسیحائی نے ڈوب کر دل نے کیا غرق سفینہ آخر بحر الفت میں ڈبویا نہیں گہرائی نے نقش پا ان کا ...

    مزید پڑھیے

    آتش ہجر کو اشکوں سے بجھانے والے

    آتش ہجر کو اشکوں سے بجھانے والے تجھ کو رونے بھی نہ دیں گے یہ زمانے والے زہر غم کھا تو سہی اے دل محروم کرم پرسش حال کو آ جائیں گے آنے والے یاد آتے ہیں تو آئے ہی چلے جاتے ہیں دل سے جاتے ہیں کہاں دل سے بھلانے والے دعوئ دید عبث جرأت دیدار غلط آپ میں آ نہ سکے آپ کو پانے والے جب سے ...

    مزید پڑھیے

    کسے ندیم کسے ہم نوا کہیں اپنا

    کسے ندیم کسے ہم نوا کہیں اپنا بٹھا کے پاس کسے مدعا کہیں اپنا رہ حیات میں اپنے پرایوں سے ہٹ کر کوئی ملے تو اسے ماجرا کہیں اپنا ادائے پردہ نشینی کی شان کہتی ہے وہ بت ہے تو بھی اسے ہم خدا کہیں اپنا قدم قدم پہ نہ کیوں اہل کارواں بھٹکیں وہ راہزن ہے جسے رہنما کہیں اپنا ہمارے پاس ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3