اہل عشق کی ہستی کیا عجیب ہستی ہے
اہل عشق کی ہستی کیا عجیب ہستی ہے مرگ ناگہانی کو زندگی ترستی ہے نام ہے سکوں جس کا جنس وہ نہیں ملتی اشک جس کا حاصل ہیں وہ خوشی تو سستی ہے جس جگہ محبت سے حسن و عشق ملتے ہیں کون سی وہ دنیا ہے کون سی وہ بستی ہے سو طرح رلاتی ہے بھول کر اگر ہنسئے روئیے تو یہ دنیا کھلکھلا کے ہنستی ہے کیا ...