Rishi Patialvi

رشی پٹیالوی

رشی پٹیالوی کی غزل

    آتش بجاں ہیں شدت سوز نہاں سے ہم

    آتش بجاں ہیں شدت سوز نہاں سے ہم اس پر بھی کام لیں گے نہ آہ و فغاں سے ہم دل پر جو بن گئی ہے کہیں کیا زباں سے ہم گر کر تری نظر سے گرے آسماں سے ہم انجام جستجو پہ وہی آ گیا مقام آغاز‌ جستجو میں چلے تھے جہاں سے ہم دیر و حرم کو چھوڑ کر آئے تھے ہم یہاں جائیں کہاں اب اٹھ کے ترے آستاں سے ...

    مزید پڑھیے

    وہی طویل سی راہیں سفر وہی تنہا

    وہی طویل سی راہیں سفر وہی تنہا بڑا ہجوم ہے پھر بھی ہے زندگی تنہا ترے بغیر اجالے بھی تیرہ ساماں ہیں بھٹک رہی ہے نگاہوں کی روشنی تنہا جہاں جہاں بھی گئی غم کے آس پاس رہی کسی مقام پہ دیکھی نہیں خوشی تنہا شعور دید کا انجام دیکھیے کیا ہو ہجوم‌ وہم و گماں اور آگہی تنہا خود اپنے شہر ...

    مزید پڑھیے

    دلوں کو لوٹنے والی ادا بھی یاد نہیں

    دلوں کو لوٹنے والی ادا بھی یاد نہیں وفا کا ذکر ہی کیسا جفا بھی یاد نہیں معاملات‌ محبت تو یاد کیا رہتے وہ رسم و راہ کا اب سلسلہ بھی یاد نہیں نکل پڑے ہیں سفینے ہواؤں کے رخ پر خدا بھی یاد نہیں ناخدا بھی یاد نہیں وہ کائنات محبت ہوئی نظر اوجھل فسوں طرازیٔ رسم وفا بھی یاد ...

    مزید پڑھیے

    سر راہ اک حادثہ ہو گیا

    سر راہ اک حادثہ ہو گیا اچانک ترا سامنا ہو گیا خود اپنی بھی اب یاد آتی نہیں تری یاد کا حق ادا ہو گیا مسیحائیاں دیکھتی رہ گئیں ترا درد بڑھ کر دوا ہو گیا کٹے گی کس امید پر زندگی اگر تیرا غم بھی جدا ہو گیا قریب آ گئیں خود بخود منزلیں ترا نقش پا رہنما ہو گیا انہیں دیکھ کر دیکھتی ...

    مزید پڑھیے

    شعور چاہیے اظہار و آگہی کے لئے

    شعور چاہیے اظہار و آگہی کے لئے خوشی ہے غم کے لئے اور غم خوشی کے لئے ہزار جلوے نظر کے لئے ہیں عالم میں نگاہ شوق ہے لیکن کسی کسی کے لئے ذرا ہواؤں کے رخ پر بھی اک نظر ڈالیں چراغ ڈھونڈ رہے ہیں جو روشنی کے لئے کسی نے یہ بھی نہ پوچھا کہ کیا گزرتی ہے ہم اپنے آپ سے جاتے رہے کسی کے لئے یہ ...

    مزید پڑھیے

    ہر اک ماحول سے بیگانگی محسوس ہوتی ہے

    ہر اک ماحول سے بیگانگی محسوس ہوتی ہے کہیں اپنی کہیں تیری کمی محسوس ہوتی ہے ابھی سے کیوں جدائی کی اذیت کا کریں شکوہ ابھی دل میں تری موجودگی محسوس ہوتی ہے محبت کا کرشمہ کوئی دیکھے تیرے کوچے میں کھلے بندوں یہاں لٹ کر خوشی محسوس ہوتی ہے ترے ارشاد بے آواز کو جب دل سے سنتا ہوں خموشی ...

    مزید پڑھیے

    امید شوق ہو یا وعدۂ راحت فزا کوئی

    امید شوق ہو یا وعدۂ راحت فزا کوئی مریض عشق کو اچھا نہیں کرتی دوا کوئی بھری دنیا میں اپنے بھی ہیں بیگانے بھی ہیں لیکن نہیں ہمدرد اب میرا ترے غم کے سوا کوئی پرانا ہو گیا ہے ذکر توبہ چھوڑیئے ساقی پرانی ہو تو لا کوئی رکھا کوئی پلا کوئی مجھے یہ عرض کرنی ہے تمہاری بے نیازی سے تمہاری ...

    مزید پڑھیے

    تصور سے نظارے تک فروغ سحر حیرت ہے

    تصور سے نظارے تک فروغ سحر حیرت ہے حقیقت بھی فسانہ ہے فسانہ بھی حقیقت ہے کسی پر جان دینا بے‌‌ نیاز مدعا ہو کر یہی جذبہ مرے نزدیک معراج محبت ہے زباں پر آ کے جو حرف و حکایت سے گزر جائے نہ جانے کیوں وہی بات ان سے کہنے کی ضرورت ہے سوال اٹھتا نہیں کوئی یہاں حد تعین کا وہاں تک جستجو ...

    مزید پڑھیے

    ادائے حسن کی حسن ادا کی بات ہوتی ہے

    ادائے حسن کی حسن ادا کی بات ہوتی ہے وفا کی آزمائش پر جفا کی بات ہوتی ہے یہ کیسا دور دورہ ہے قلم روئے محبت میں بتوں کا حکم چلتا ہے خدا کی بات ہوتی ہے کوئی گنجائش فریاد و شکوہ تک نہیں باقی خطائے بے گناہی پر سزا کی بات ہوتی ہے بھر آتا ہے دل محروم پرسش درد مندی سے کہیں بھی جب کسی درد ...

    مزید پڑھیے

    آرزو جرم ہے مدعا جرم ہے

    آرزو جرم ہے مدعا جرم ہے اس فضا میں امید وفا جرم ہے ہر طرف ہیں محبت کی مجبوریاں ابتدا جرم ہے انتہا جرم ہے ذوق‌ دیدار پر لاکھ پابندیاں دیکھ کر پھر انہیں دیکھنا جرم ہے زندگی بھر کی نیندیں اچٹ جائیں گی سایۂ زلف میں بیٹھنا جرم ہے ہر سزا کو کسی کی عطا مانئے یہ بھی کیوں پوچھئے کون ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3