Rekha rajvanshi

ریکھا راج ونشی

ریکھا راج ونشی کی غزل

    رات پھر بولتی رہیں آنکھیں

    رات پھر بولتی رہیں آنکھیں راز سب کھولتی رہیں آنکھیں کس طرح اعتبار کر پاتے ہر طرف ڈولتی رہیں آنکھیں میرے کپڑوں سے گھر سے گاڑی سے حیثیت تولتی رہیں آنکھیں چہرے کتنے نقاب پہنے تھے صورتیں مولتی رہیں آنکھیں تھی وہاں مے نہ ساقی پیمانے پر نشہ گھولتی رہیں آنکھیں

    مزید پڑھیے

    مجھ پہ الزام لگاتے کیوں ہو

    مجھ پہ الزام لگاتے کیوں ہو بات پے بات بناتے کیوں ہو زخم پچھلے نہ بھرے اب تک پھر اک نئی چوٹ لگاتے کیوں ہو میری ہر بات دبا کر بولو صرف اپنی ہی چلاتے کیوں ہو مچھلیوں پر بھی ترس کھاؤ کچھ آگ پانی میں لگاتے کیوں ہو سر کے ماتھے پہ پسینہ آیا بے سرا ساز بجاتے کیوں ہو بچ کے طوفاں سے چلے ...

    مزید پڑھیے

    اب کسی سے گلا نہیں کوئی

    اب کسی سے گلا نہیں کوئی اپنا تیرے سوا نہیں کوئی ہو گیا جس کو قتل ہونا تھا قاتلوں سے صلہ نہیں کوئی جانے کتنے حسین ملتے ہیں تیرے جیسی ادا نہیں کوئی کوئی مل کے بھی مل نہیں پایا اور ہم سے جدا نہیں کوئی خوشیاں یوں تو ہزار ملتی ہیں اور غم سے رہا نہیں کوئی

    مزید پڑھیے

    اشکوں کے سمندر میں سانسوں کا سفینہ ہے

    اشکوں کے سمندر میں سانسوں کا سفینہ ہے جینا ہے تو ہنس ہنس کر ہر درد کو پینا ہے دیکھے ہیں بہت اپنے ہاتھوں میں لیے خنجر دھندلے ہیں بہت رستے بچ کے ہمیں جینا ہے دیکھو تو سمے کیسا آیا ہے جہاں والو مے مہنگی ہوئی سستا اب خون پسینہ ہے نفرت بھری دنیا میں اونچی ہوئیں دیواریں زیور کی ...

    مزید پڑھیے