رات پھر بولتی رہیں آنکھیں
رات پھر بولتی رہیں آنکھیں راز سب کھولتی رہیں آنکھیں کس طرح اعتبار کر پاتے ہر طرف ڈولتی رہیں آنکھیں میرے کپڑوں سے گھر سے گاڑی سے حیثیت تولتی رہیں آنکھیں چہرے کتنے نقاب پہنے تھے صورتیں مولتی رہیں آنکھیں تھی وہاں مے نہ ساقی پیمانے پر نشہ گھولتی رہیں آنکھیں