مجھ پہ الزام لگاتے کیوں ہو
مجھ پہ الزام لگاتے کیوں ہو
بات پے بات بناتے کیوں ہو
زخم پچھلے نہ بھرے اب تک پھر
اک نئی چوٹ لگاتے کیوں ہو
میری ہر بات دبا کر بولو
صرف اپنی ہی چلاتے کیوں ہو
مچھلیوں پر بھی ترس کھاؤ کچھ
آگ پانی میں لگاتے کیوں ہو
سر کے ماتھے پہ پسینہ آیا
بے سرا ساز بجاتے کیوں ہو
بچ کے طوفاں سے چلے آئے ہیں
لا کے ساحل پہ ڈباتے کیوں ہو
نفرتوں کے یہ لیے تاج محل
جھوٹ کے اشک بہاتے کیوں ہو