اشکوں کے سمندر میں سانسوں کا سفینہ ہے
اشکوں کے سمندر میں سانسوں کا سفینہ ہے
جینا ہے تو ہنس ہنس کر ہر درد کو پینا ہے
دیکھے ہیں بہت اپنے ہاتھوں میں لیے خنجر
دھندلے ہیں بہت رستے بچ کے ہمیں جینا ہے
دیکھو تو سمے کیسا آیا ہے جہاں والو
مے مہنگی ہوئی سستا اب خون پسینہ ہے
نفرت بھری دنیا میں اونچی ہوئیں دیواریں
زیور کی دکانوں میں اب نقلی نگینہ ہے
امید کریں کس سے ہر شخص پریشاں ہے
یہ چاک جگر ہم کو اب آپ ہی سینا ہے