Rekha rajvanshi

ریکھا راج ونشی

ریکھا راج ونشی کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    رات پھر بولتی رہیں آنکھیں

    رات پھر بولتی رہیں آنکھیں راز سب کھولتی رہیں آنکھیں کس طرح اعتبار کر پاتے ہر طرف ڈولتی رہیں آنکھیں میرے کپڑوں سے گھر سے گاڑی سے حیثیت تولتی رہیں آنکھیں چہرے کتنے نقاب پہنے تھے صورتیں مولتی رہیں آنکھیں تھی وہاں مے نہ ساقی پیمانے پر نشہ گھولتی رہیں آنکھیں

    مزید پڑھیے

    مجھ پہ الزام لگاتے کیوں ہو

    مجھ پہ الزام لگاتے کیوں ہو بات پے بات بناتے کیوں ہو زخم پچھلے نہ بھرے اب تک پھر اک نئی چوٹ لگاتے کیوں ہو میری ہر بات دبا کر بولو صرف اپنی ہی چلاتے کیوں ہو مچھلیوں پر بھی ترس کھاؤ کچھ آگ پانی میں لگاتے کیوں ہو سر کے ماتھے پہ پسینہ آیا بے سرا ساز بجاتے کیوں ہو بچ کے طوفاں سے چلے ...

    مزید پڑھیے

    اب کسی سے گلا نہیں کوئی

    اب کسی سے گلا نہیں کوئی اپنا تیرے سوا نہیں کوئی ہو گیا جس کو قتل ہونا تھا قاتلوں سے صلہ نہیں کوئی جانے کتنے حسین ملتے ہیں تیرے جیسی ادا نہیں کوئی کوئی مل کے بھی مل نہیں پایا اور ہم سے جدا نہیں کوئی خوشیاں یوں تو ہزار ملتی ہیں اور غم سے رہا نہیں کوئی

    مزید پڑھیے

    اشکوں کے سمندر میں سانسوں کا سفینہ ہے

    اشکوں کے سمندر میں سانسوں کا سفینہ ہے جینا ہے تو ہنس ہنس کر ہر درد کو پینا ہے دیکھے ہیں بہت اپنے ہاتھوں میں لیے خنجر دھندلے ہیں بہت رستے بچ کے ہمیں جینا ہے دیکھو تو سمے کیسا آیا ہے جہاں والو مے مہنگی ہوئی سستا اب خون پسینہ ہے نفرت بھری دنیا میں اونچی ہوئیں دیواریں زیور کی ...

    مزید پڑھیے