Prahlad Rai Danish

پرہلاد رائے دانش

پرہلاد رائے دانش کی غزل

    کون ہم سے سوا سمجھتا ہے

    کون ہم سے سوا سمجھتا ہے کس سے پوچھیں کہ زندگی کیا ہے آج کچھ دیر رو لئے ہم بھی آج کچھ دل کا بوجھ ہلکا ہے اب نہ آئے گا وہ خبر تھی مگر راستہ اس کا پھر بھی دیکھا ہے اب مراسم میں وہ تپاک نہیں ملنا جلنا یہ چند دن کا ہے اور تو یاد ہے اسے سب کچھ وہ مگر خود کو بھول بیٹھا ہے عشق جب دل کا ہم ...

    مزید پڑھیے

    مجبور ہوں آہ کر رہا ہوں

    مجبور ہوں آہ کر رہا ہوں نادم ہوں گناہ کر رہا ہوں پھولوں کی تلاش ہے نظر کو کانٹوں پہ نگاہ کر رہا ہوں اے برق ٹھہر کہ اپنا گلشن میں خود ہی تباہ کر رہا ہوں بس ایک تری خوشی کی خاطر ہر غم سے نباہ کر رہا ہوں اس کی نظر اپنی سمت پا کر ہر سمت نگاہ کر رہا ہوں منزل کا تو کچھ پتا نہیں ہے سجدے ...

    مزید پڑھیے

    دیوار و در سے دور ہمارا مکان ہے

    دیوار و در سے دور ہمارا مکان ہے سر پر ہمارے دھوپ کا اک سائبان ہے یارو غم حیات سے بے اعتنائی کیا آیا ہے چند دن کے لئے میہمان ہے کب سے اسے رہی ہے خریدار کی طلب بازار زندگی میں جو غم کی دکان ہے کیوں ترک آرزو کے لئے کہہ رہے ہیں آپ شاید یہ آرزو تو محبت کی جان ہے دیوانگان عشق کا کیا ...

    مزید پڑھیے

    پیار تمہی سے کرتا ہے

    پیار تمہی سے کرتا ہے یہ دل تم پر مرتا ہے راتوں کا یہ سناٹا مجھ سے باتیں کرتا ہے تجھ سے بچھڑ کر کیا بتلائیں کیسے وقت گزرتا ہے کوئی سلگتے موسم میں ٹھنڈی آہیں بھرتا ہے دل کے آئینے میں کون بنتا اور سنورتا ہے خاکۂ جاں میں پیار ترا رنگ انوکھے بھرتا ہے درد کا مارا دل دانشؔ تنہائی ...

    مزید پڑھیے

    دل ہے برباد تمنا جاناں

    دل ہے برباد تمنا جاناں اور ہم تجھ سے کہیں کیا جاناں چھوڑ کے ہم نے تو رستے سارے چن لیا پیار کا رستہ جاناں ٹوٹ سکتا ہے اگر تو چاہے درد سے دل کا یہ رشتہ جاناں تو ملے ہم سے تو بتلائیں تجھے ہم کو ارمان ہیں کیا کیا جاناں چاہیں کیا چاہنے والے تیرے تو جو چاہے وہی ہوگا جاناں خواب بننے ...

    مزید پڑھیے

    جب ذکر وفا آئے

    جب ذکر وفا آئے دل کیوں مرا گھبرائے یہ رات کی خاموشی باتیں تری دہرائے پھر خود کو میں بھولا ہوں پھر یاد کوئی آئے جو تجھ کو گنوا بیٹھا اپنے کو وہ کیا پائے کچھ اور بڑھی دوری جب جب وہ قریب آئے ہے کون سوا تیرے اس دل میں جو بس جائے قسمت یہ کہاں دانشؔ کوئی مرا ہو جائے

    مزید پڑھیے

    ان کی آنکھوں کے اشارے دیکھے

    ان کی آنکھوں کے اشارے دیکھے یعنی جینے کے سہارے دیکھے کیا کہیں دل کی جراحت کیا ہے تم نے کب زخم ہمارے دیکھے صبح تک آتا رہا تیرا خیال رات بھر ہم نے ستارے دیکھے پاس غیروں کا ہے اپنوں سے سوا سب چلن ہم نے تمہارے دیکھے اس نے جب ہم سے نگاہیں پھیریں دل پہ چلتے ہوئے آرے دیکھے قہر ڈھاتا ...

    مزید پڑھیے