پس نظارہ کوئی لہر سی تھی پانی تک
پس نظارہ کوئی لہر سی تھی پانی تک کیا تماشا تھا نہ تھی آنکھ میں حیرانی تک سفر اتنا تھا کٹھن لوٹ بالآخر آئے بڑی مشکل سے چلے راہ تن آسانی تک دھجیاں جسم سے اتری ہیں ابھی خیر مناؤ تن سے اترے گا یہاں جامۂ عریانی تک کسی انجان چمک کے ہیں دل و چشم اسیر سلسلہ ایک سا ہے آئنے سے پانی تک سر ...