Mohammad Khalid

محمد خالد

70 کی دہائی میں اُبھرنے والے جیّد غزل گو جنھوں نے اپنے معاصر اور مابعد دور کے متعدد اہم شعراء پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

One of the most refined and accomplished Ghazal poets who profoundly influenced important poets both among his contemporaries as well as the following generations.

محمد خالد کی غزل

    پس نظارہ کوئی لہر سی تھی پانی تک

    پس نظارہ کوئی لہر سی تھی پانی تک کیا تماشا تھا نہ تھی آنکھ میں حیرانی تک سفر اتنا تھا کٹھن لوٹ بالآخر آئے بڑی مشکل سے چلے راہ تن آسانی تک دھجیاں جسم سے اتری ہیں ابھی خیر مناؤ تن سے اترے گا یہاں جامۂ عریانی تک کسی انجان چمک کے ہیں دل و چشم اسیر سلسلہ ایک سا ہے آئنے سے پانی تک سر ...

    مزید پڑھیے

    فصل جو چاہیں کاٹنا بو بھی نہیں سکتے

    فصل جو چاہیں کاٹنا بو بھی نہیں سکتے اور یہ لمحے رائیگاں کھو بھی نہیں سکتے اب تو ہنسی آ جاتی ہے جب ہو یہ دھیان کہ ہم رونے والی بات پر رو بھی نہیں سکتے خوابوں کے سب قافلے دن کے سفر پر ہیں شب کو لمبی تان کر سو بھی نہیں سکتے دل سے آخر دھو چلیں گرد کدورت کیوں جب ہم تیرا آئنہ ہو بھی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2