فصل جو چاہیں کاٹنا بو بھی نہیں سکتے
فصل جو چاہیں کاٹنا بو بھی نہیں سکتے
اور یہ لمحے رائیگاں کھو بھی نہیں سکتے
اب تو ہنسی آ جاتی ہے جب ہو یہ دھیان کہ ہم
رونے والی بات پر رو بھی نہیں سکتے
خوابوں کے سب قافلے دن کے سفر پر ہیں
شب کو لمبی تان کر سو بھی نہیں سکتے
دل سے آخر دھو چلیں گرد کدورت کیوں
جب ہم تیرا آئنہ ہو بھی نہیں سکتے
کوئی ہمیں پہچان لے یوں تو مشکل ہے
لیکن ہم اس بھیڑ میں کھو بھی نہیں سکتے
اس کے کرم کی بارشیں یوں تو برستی ہیں
داغ کچھ ایسے ہیں کہ ہم دھو بھی نہیں سکتے