پس نظارہ کوئی لہر سی تھی پانی تک
پس نظارہ کوئی لہر سی تھی پانی تک
کیا تماشا تھا نہ تھی آنکھ میں حیرانی تک
سفر اتنا تھا کٹھن لوٹ بالآخر آئے
بڑی مشکل سے چلے راہ تن آسانی تک
دھجیاں جسم سے اتری ہیں ابھی خیر مناؤ
تن سے اترے گا یہاں جامۂ عریانی تک
کسی انجان چمک کے ہیں دل و چشم اسیر
سلسلہ ایک سا ہے آئنے سے پانی تک
سر و ساماں کوئی اس راہ سے کیوں کر لے جائے
چھوڑ آئے ہیں جہاں بے سر و سامانی تک
اور پھر اتنا چلے پاؤں میں طاقت نہ رہی
دو قدم تھے مری دانائی سے نادانی تک