Mohammad Ibrahim Noori

محمد ابراہیم نوری

محمد ابراہیم نوری کی غزل

    کس قدر خوش نصیب ہوتے ہیں

    کس قدر خوش نصیب ہوتے ہیں جو شریف و نجیب ہوتے ہیں کیا نہیں ہوتے قابل عزت دہر میں جو غریب ہوتے ہیں بے خرد دوستوں سے تو بہتر ہاں رقیب لبیب ہوتے ہیں در پہ اب سائلوں کی دستک سے صد پریشاں مجیب ہوتے ہیں جان لیتے ہیں جو مریضوں کی کیا وہ قاتل طبیب ہوتے ہیں کیوں محبت کی راہ میں ہی ...

    مزید پڑھیے

    وہ جس سے پیار میں دیوانہ وار کرتا رہا

    وہ جس سے پیار میں دیوانہ وار کرتا رہا وہ پیٹھ پیچھے مرے مجھ پہ وار کرتا رہا جو شخص بندگیٔ کردگار کرتا رہا وہ خود کو دہر میں یوں ذی وقار کرتا رہا عجیب شخص تھا وہ جب تلک رہا زندہ خزاں کی رت میں بھی جشن بہار کرتا رہا حصول جس کا مری دسترس سے باہر تھا اسی کی چاہ میں دل بیقرار کرتا ...

    مزید پڑھیے

    جو زندگی میں کبھی جستجو نہیں کرتا

    جو زندگی میں کبھی جستجو نہیں کرتا مرا خدا بھی اسے سرخ رو نہیں کرتا یہ میرا دل تو دھڑکتا ہے ظاہراً لیکن کسی بھی شے کی یہ دل آرزو نہیں کرتا کسی کے قرب نے مجھ کو بنا دیا شاعر وگرنہ شاعری میں تو کبھو نہیں کرتا کسی نے دیکھ لیا تو کہے گا دیوانہ جو اپنا چاک گریباں رفو نہیں کرتا جو ...

    مزید پڑھیے

    جس کی خاطر سجائی محفل ہے

    جس کی خاطر سجائی محفل ہے کیوں رسائی اسی کی مشکل ہے زندگی کیا ہے میں بتاتا ہوں ایک مجموعۂ مسائل ہے اس کو بھی تو سزا ملے کوئی جو مری خواہشوں کا قاتل ہے پہلے وہ مجھ پہ جاں چھڑکتا تھا اب مرے دشمنوں میں شامل ہے دست قاتل بھلا نہ کیوں لرزیں تیر کا رخ جو سوئے بسمل ہے رہتی دنیا تلک یہ ...

    مزید پڑھیے

    وقت مشکل ہے پہ یہ وقت گزر جائے گا

    وقت مشکل ہے پہ یہ وقت گزر جائے گا یار و اغیار کا ہاں فیصلہ کر جائے گا ٹھوکریں گردش ایام کی گر کھائے گا پیار کا بھوت ترے سر سے اتر جائے گا کب تلک ضبط کرے گا بھلا سورج کی تپش پھول تو پھول ہے اک روز بکھر جائے گا مدتوں بعد بھی زندہ ہے بچھڑ کر مجھ سے بن مرے اس نے کہا تھا کہ وہ مر جائے ...

    مزید پڑھیے

    وہ مار دے گا اگر خنجر تبسم سے

    وہ مار دے گا اگر خنجر تبسم سے تو گنگناؤں گا کیسے غزل ترنم سے سجی ہے تیرے لیے کائنات شعر و سخن غزل یہ میری ہے منسوب جان من تم سے قضا نماز محبت نہ ہو کسی صورت اگر وضو نہیں ممکن تو پڑھ تیمم سے تو با ہنر ہے کہ ہے بے ہنر مرے جیسا یہ راز بستہ کھلے گا ترے تکلم سے شناوری کا ہنر ہی مجھے ...

    مزید پڑھیے

    مری بستی میں جتنی لڑکیاں ہیں

    مری بستی میں جتنی لڑکیاں ہیں خدا کا شکر پردے والیاں ہیں میں انساں ہوں فرشتہ تو نہیں ہوں سو مجھ میں بھی یقیناً خامیاں ہیں تمہارے بن مری حالت ہے ایسی بنا پانی کے جیسی کشتیاں ہیں چلیں سوچیں ذرا اس مسئلے پر ہمارے درمیاں کیوں دوریاں ہیں میں خود کو کیوں بھلا سمجھوں گا تنہا مری ...

    مزید پڑھیے

    کیا ہے کام یہ لیل و نہار آنکھوں نے

    کیا ہے کام یہ لیل و نہار آنکھوں نے دکھایا جلوۂ پروردگار آنکھوں نے کبھی دکھایا ہے پژمردہ باغ فصل خزاں کبھی دکھائی ہے فصل بہار آنکھوں نے میں اپنے دل پہ یہ الزام دھر نہیں سکتا تباہ مجھ کو کیا سرمہ دار آنکھوں نے حدیث دل جو چھپانے کی لاکھ کوشش کی مگر کیا ہے اسے آشکار آنکھوں ...

    مزید پڑھیے