جس کی خاطر سجائی محفل ہے
جس کی خاطر سجائی محفل ہے
کیوں رسائی اسی کی مشکل ہے
زندگی کیا ہے میں بتاتا ہوں
ایک مجموعۂ مسائل ہے
اس کو بھی تو سزا ملے کوئی
جو مری خواہشوں کا قاتل ہے
پہلے وہ مجھ پہ جاں چھڑکتا تھا
اب مرے دشمنوں میں شامل ہے
دست قاتل بھلا نہ کیوں لرزیں
تیر کا رخ جو سوئے بسمل ہے
رہتی دنیا تلک یہ کرب و بلا
حق و باطل میں حد فاصل ہے
ہونے والا ہے کچھ برا شاید
آج کل مضطرب مرا دل ہے
باپ بولا ادا کروں کیسے
اس قدر پانی گیس کا بل ہے
وہ فصیل انا گرانی ہے
جو ہمارے میان حائل ہے
ایک دن غم تو ایک روز خوشی
بس یہی زندگی کا حاصل ہے
آج کے دور میں جسے دیکھو
مقصد زندگی سے غافل ہے
کیسے کھاتے ہو شوق سے نوریؔ
خالی فلفل سے یہ فلافل ہے