کس قدر خوش نصیب ہوتے ہیں

کس قدر خوش نصیب ہوتے ہیں
جو شریف و نجیب ہوتے ہیں


کیا نہیں ہوتے قابل عزت
دہر میں جو غریب ہوتے ہیں


بے خرد دوستوں سے تو بہتر
ہاں رقیب لبیب ہوتے ہیں


در پہ اب سائلوں کی دستک سے
صد پریشاں مجیب ہوتے ہیں


جان لیتے ہیں جو مریضوں کی
کیا وہ قاتل طبیب ہوتے ہیں


کیوں محبت کی راہ میں ہی سدا
غم ہی پیہم نصیب ہوتے ہیں


لوگ بس ان کو تکتے رہتے ہیں
ظاہراً جو شبیب ہوتے ہیں


سرفرازی انہیں کو ملتی ہے
وہ جو اہل شکیب ہوتے ہیں


دور رہ کر بھی ظاہراً کچھ لوگ
دل کے بے حد قریب ہوتے ہیں


گلستان ادب میں اے نوریؔ
نغمہ خواں بس ادیب ہوتے ہیں