وہ جس سے پیار میں دیوانہ وار کرتا رہا
وہ جس سے پیار میں دیوانہ وار کرتا رہا
وہ پیٹھ پیچھے مرے مجھ پہ وار کرتا رہا
جو شخص بندگیٔ کردگار کرتا رہا
وہ خود کو دہر میں یوں ذی وقار کرتا رہا
عجیب شخص تھا وہ جب تلک رہا زندہ
خزاں کی رت میں بھی جشن بہار کرتا رہا
حصول جس کا مری دسترس سے باہر تھا
اسی کی چاہ میں دل بیقرار کرتا رہا
یہ میری جان ہے قربان اس غزل خواں پر
فراز دار پہ جو ذکر یار کرتا رہا
خیال کیا ہے تمہارا ہمارے بارے میں
سوال مجھ سے کوئی بار بار کرتا رہا
کسی نے اس کو بٹھایا نہیں سواری پر
مسافروں کو جو بندہ سوار کرتا رہا
دیار غیر میں رہ کر بھی تجھ کو خاک وطن
ہمیشہ یاد دل خاکسار کرتا رہا
نصیحتوں کی جسے خود بہت ضرورت تھی
وہ دوسروں کو نصیحت ہزار کرتا رہا
مری نگاہ میں منزل تھی روز اول سے
سو ضبط گردش لیل و نہار کرتا رہا
کسی کا مجھ سے یہ کہنا بھلا لگا مجھ کو
کہاں تھا تو میں تیرا انتظار کرتا رہا
اسی پہ بارش نعمت مدام ہوتی رہی
جو شکر نعمت پروردگار کرتا رہا
جو شہر بھر میں نہ تھا اعتبار کے قابل
یہ دل اس پہ ہی کیوں اعتبار کرتا رہا
اسے گھمنڈ تھا اپنے امیر ہونے پر
سو میرے سامنے ڈالر شمار کرتا رہا
نکھرتا جائے گا فن بزم استعارہ کا
جو نوریؔ چشم کرم شہریار کرتا رہا