وہ مار دے گا اگر خنجر تبسم سے
وہ مار دے گا اگر خنجر تبسم سے
تو گنگناؤں گا کیسے غزل ترنم سے
سجی ہے تیرے لیے کائنات شعر و سخن
غزل یہ میری ہے منسوب جان من تم سے
قضا نماز محبت نہ ہو کسی صورت
اگر وضو نہیں ممکن تو پڑھ تیمم سے
تو با ہنر ہے کہ ہے بے ہنر مرے جیسا
یہ راز بستہ کھلے گا ترے تکلم سے
شناوری کا ہنر ہی مجھے نہیں آتا
بچاؤں کیسے تجھے بحر پر تلاطم سے
مرے لیے تو مرے گھر کا حوض کافی ہے
کروں گا کیا بھلا لوگو میں بحر و قلزم سے
یزید وقت کی نیندیں حرام ہوتی ہیں
حسین اب بھی ترے اجتماع چہلم سے
ستارہ اس کے مقدر کا جب نہیں چمکا
اٹھا ہے دشمنی کرنے وہ بزم انجم سے
مرے سفینۂ ہستی کے ناخدا تم ہو
یہ ڈگمگا نہیں سکتا کسی تلاطم سے
کسی کے ساتھ مجھے دیکھ کر کسی نے کہا
یہ بے وفائی کی امید تو نہ تھی تم سے
نماز عشق خدا کی ادائیگی کے لیے
زمیں پہ آئے گا کوئی فلک چہارم سے
یہ لفظ سنتے ہی محبوب یاد آتے ہیں
جبھی تو انس ہے اس دل کو لفظ پنجم سے
قدم قدم پہ جہالت اسے ستائے گی
جو دور ہو گیا تعلیم اور تعلم سے
مجھے ہے جلدی مجھے اور کہیں بھی جانا ہے
کہا یہ اس نے کہ میں کل ملوں گا پھر تم سے
اسی سماج کے افراد سنگ دل نکلے
سماج خالی تھا جو جذبۂ ترحم سے
خوشی سے لوٹنا اپنے وطن کو اے نوریؔ
ہوا جو فارغ تحصیل حوزۂ قم سے