محمد حنیف کی غزل

    رہتا ہے اپنی دھن میں ہوا پر سوار وقت

    رہتا ہے اپنی دھن میں ہوا پر سوار وقت کرتا نہیں کسی کا کبھی انتظار وقت دریا ہے اور لوٹ کے آتا نہیں کبھی سن کنج عافیت میں نہ اپنا گزار وقت آتا نہیں گرفت میں میری کسی طرح سیماب کی طرح ہے بہت بے قرار وقت باقی تمام عمر کٹی ہے فضول میں گزرا جو تیرے ساتھ ہے وہ یادگار وقت گر مل گیا کسی ...

    مزید پڑھیے

    کیا ملے گا سکوں کہ وحشت ہے

    کیا ملے گا سکوں کہ وحشت ہے ہو کے بیکل پھروں کہ وحشت ہے کسی جانب بھی دل نہیں لگتا عشق ہے یا جنوں کہ وحشت ہے دوڑتا ہوں ادھر ادھر کیسے بے قراری ہے چوں کہ وحشت ہے کاٹتی ہے یہ جھونپڑی مجھ کو اس کی جانب چلوں کہ وحشت ہے یہ مرا اضطراب ہے کیا ہے ہے یہ حال زبوں کہ وحشت ہے ہے یہ کوئی فسوں ...

    مزید پڑھیے

    نہیں ہے یاد کہاں اور کدھر ملا تھا مجھے

    نہیں ہے یاد کہاں اور کدھر ملا تھا مجھے وہ بد تمیز ادب سے مگر ملا تھا مجھے وگرنہ میں تو نہیں ہوں چھپا ہوا خود سے ملا تھا جو بھی ترے نام پر ملا تھا مجھے جو کر دیا ہے یہی تھا مرے لیے ممکن کہ وقت بھی تو بہت مختصر ملا تھا مجھے پھر اس کے بعد مجھے آ گیا تھا ہنسنا بھی میں رو رہا تھا کہ جب ...

    مزید پڑھیے

    کیا ارادہ ہے مرے یار کہاں جاتا ہے

    کیا ارادہ ہے مرے یار کہاں جاتا ہے تیز اتنی ہے جو رفتار کہاں جاتا ہے تیری منزل تو کسی اور طرف ہے اور تو اے مرے قافلہ سالار کہاں جاتا ہے آ ذرا دیر کہیں بیٹھ کے باتیں کر لیں چھوڑ بازار کو بازار کہاں جاتا ہے پھرتا رہتا ہے مضافات میں تیرے دن رات دور اب تیرا گرفتار کہاں جاتا ہے تیرے ...

    مزید پڑھیے

    اٹھ کے بیٹھا بھی نہیں تھا ابھی بیماری سے

    اٹھ کے بیٹھا بھی نہیں تھا ابھی بیماری سے واسطہ آن پڑا بے در و دیواری سے ورنہ کچھ بھی نہیں موجود کا منظر نامہ عالم خواب بھی ہے عالم بیداری سے شہر کے لوگ غلط مجھ کو سمجھنے لگ جائیں میری تکذیب کرے ایسی اداکاری سے شہر میں اور بھی ہنگامے ہیں برپا کیا کیا کیوں نکلتا ہی نہیں میں تری ...

    مزید پڑھیے

    اسیر عظمت کردار بھی نہیں ہوئے ہیں

    اسیر عظمت کردار بھی نہیں ہوئے ہیں ابھی تو صاحب دستار بھی نہیں ہوئے ہیں ہم اک طرح سے گرفتار تو ہوئے ہیں مگر کچھ اس طرح سے گرفتار بھی نہیں ہوئے ہیں ہمیشہ لیتے ہیں ہم خود اذیتی کا مزہ ہمارے درد گراں بار بھی نہیں ہوئے ہیں ابھی سے کس لیے تم کو پڑی ہے جانے کی ابھی تو بند یہ بازار بھی ...

    مزید پڑھیے

    کوئی اور داستاں تھی در داستاں سے آگے

    کوئی اور داستاں تھی در داستاں سے آگے مجھے لے گیا تھا اک دن کوئی آسماں سے آگے مجھے کیا دکھائی دیتا کہ ہر اک طرف دھواں تھا میں نکل گیا تھا شاید تری کہکشاں سے آگے ترے آستاں سے آگے کوئی راستہ نہیں ہے کوئی کیسے جا سکے گا ترے آستاں سے آگے میں کبھی وہاں سے آگے نہ گیا نہ جا سکوں گا مجھے ...

    مزید پڑھیے

    آیا ہوں تیرے پاس مرے یار دور سے

    آیا ہوں تیرے پاس مرے یار دور سے دیکھا ہے میں نے سایۂ دیوار دور سے نزدیک آ کے دیکھا تو آسان تھی وہ راہ مجھ کو دکھائی دی تھی جو دشوار دور سے اندر سے جا کے دیکھا تو خوش کن مکان تھا لگتا تھا دیکھنے میں پر اسرار دور سے اس تک رسائی اس قدر آسان تو نہ تھی لایا ہوں اس کو کر کے گرفتار دور ...

    مزید پڑھیے

    کوئی شکوہ ہے کہاں بے سر و سامانی کا

    کوئی شکوہ ہے کہاں بے سر و سامانی کا اس میں بھی راز نہاں ہے کوئی آسانی کا بعض اوقات تمنائیں بھی مر جاتی ہیں اک عذاب ایسا بھی ہوتا ہے فراوانی کا بس یوں ہی شام سے ہے دل مرا بے چین بہت نہیں کوئی بھی سبب میری پریشانی کا مطمئن ہوں میں اگر چھوڑ کے دنیا تیری تیر کیوں سینے میں لگتا ہے ...

    مزید پڑھیے