کوئی شکوہ ہے کہاں بے سر و سامانی کا

کوئی شکوہ ہے کہاں بے سر و سامانی کا
اس میں بھی راز نہاں ہے کوئی آسانی کا


بعض اوقات تمنائیں بھی مر جاتی ہیں
اک عذاب ایسا بھی ہوتا ہے فراوانی کا


بس یوں ہی شام سے ہے دل مرا بے چین بہت
نہیں کوئی بھی سبب میری پریشانی کا


مطمئن ہوں میں اگر چھوڑ کے دنیا تیری
تیر کیوں سینے میں لگتا ہے پشیمانی کا


گم ہوا آ کے یہاں جب تو بہت پچھتایا
اسے اندازہ نہ تھا دل کی بیابانی کا