کیا ملے گا سکوں کہ وحشت ہے
کیا ملے گا سکوں کہ وحشت ہے
ہو کے بیکل پھروں کہ وحشت ہے
کسی جانب بھی دل نہیں لگتا
عشق ہے یا جنوں کہ وحشت ہے
دوڑتا ہوں ادھر ادھر کیسے
بے قراری ہے چوں کہ وحشت ہے
کاٹتی ہے یہ جھونپڑی مجھ کو
اس کی جانب چلوں کہ وحشت ہے
یہ مرا اضطراب ہے کیا ہے
ہے یہ حال زبوں کہ وحشت ہے
ہے یہ کوئی فسوں کہ وحشت ہے
کچھ پریشان ہوں کہ وحشت ہے