آیا ہوں تیرے پاس مرے یار دور سے

آیا ہوں تیرے پاس مرے یار دور سے
دیکھا ہے میں نے سایۂ دیوار دور سے


نزدیک آ کے دیکھا تو آسان تھی وہ راہ
مجھ کو دکھائی دی تھی جو دشوار دور سے


اندر سے جا کے دیکھا تو خوش کن مکان تھا
لگتا تھا دیکھنے میں پر اسرار دور سے


اس تک رسائی اس قدر آسان تو نہ تھی
لایا ہوں اس کو کر کے گرفتار دور سے


نزدیک سے نظر نہیں آتا کسی طرح
پورا دکھائی دیتا ہے کہسار دور سے


لیکن ہے کس طرح سے معطر مشام جاں
گزری تھی میرے یار کی مہکار دور سے


اب فون پر ہی کرتا ہوں میں اس سے گفتگو
اب چومتا ہوں وہ لب و رخسار دور سے


ہنستے ہیں مجھ کو دیکھ کے اشجار اور طیور
اب دیکھتا ہوں وہ گل و گلزار دور سے