کیا ارادہ ہے مرے یار کہاں جاتا ہے
کیا ارادہ ہے مرے یار کہاں جاتا ہے
تیز اتنی ہے جو رفتار کہاں جاتا ہے
تیری منزل تو کسی اور طرف ہے اور تو
اے مرے قافلہ سالار کہاں جاتا ہے
آ ذرا دیر کہیں بیٹھ کے باتیں کر لیں
چھوڑ بازار کو بازار کہاں جاتا ہے
پھرتا رہتا ہے مضافات میں تیرے دن رات
دور اب تیرا گرفتار کہاں جاتا ہے
تیرے چہرے کی چمک بول رہی ہے خود ہی
اس قدر ہو کے یہ تیار کہاں جاتا ہے
پہلے ممکن تھا مگر اب یہ نہیں ہے ممکن
اب مرے دل کا یہ آزار کہاں جاتا ہے
میں چھپاؤں بھی تو یہ بات کہاں چھپتی ہے
سب کو معلوم ہے بیمار کہاں جاتا ہے
کار دنیا بھی نہیں ہے یہ فقیری بھی نہیں
بے نیاز کم و بسیار کہاں جاتا ہے
یہ ترے چلنے کا انداز نہیں ہے بالکل
تیرا جانا ہے پر اسرار کہاں جاتا ہے
اس کی تقدیر میں لکھا ہے جہاں ہے وہیں ہو
کسی جانب کوئی کہسار کہاں جاتا ہے
ہے تجھے دھوپ میں جلنے کا بہت شوق حنیفؔ
چھوڑ کر سایۂ دیوار کہاں جاتا ہے