ہر ایک ہاتھ میں پتھر ہے کیا کیا جائے
ہر ایک ہاتھ میں پتھر ہے کیا کیا جائے یہ آئنے کا مقدر ہے کیا کیا جائے بنا لیا ہے اسے مرکزنظر میں نے سراپا حسن کا پیکر ہے کیا کیا جائے وہ چاہے جان بھی لے لے مری تو ہے منظور مرا بھروسہ اسی پر ہے کیا کیا جائے اگر وہ چاہے بھی اک پل تو جی نہیں سکتا اجل کا وقت مقرر ہے کیا کیا جائے چلا ...