Mohammad Ali Sahil

محمد علی ساحل

محمد علی ساحل کی غزل

    ہر ایک ہاتھ میں پتھر ہے کیا کیا جائے

    ہر ایک ہاتھ میں پتھر ہے کیا کیا جائے یہ آئنے کا مقدر ہے کیا کیا جائے بنا لیا ہے اسے مرکزنظر میں نے سراپا حسن کا پیکر ہے کیا کیا جائے وہ چاہے جان بھی لے لے مری تو ہے منظور مرا بھروسہ اسی پر ہے کیا کیا جائے اگر وہ چاہے بھی اک پل تو جی نہیں سکتا اجل کا وقت مقرر ہے کیا کیا جائے چلا ...

    مزید پڑھیے

    مذاق غم اڑانا اب مجھے اچھا نہیں لگتا

    مذاق غم اڑانا اب مجھے اچھا نہیں لگتا کسی کا مسکرانا اب مجھے اچھا نہیں لگتا کبھی نیندیں چرانا جن کی مجھ کو اچھا لگتا تھا نظر ان کا چرانا اب مجھے اچھا نہیں لگتا جنہیں مجھ پر یقیں ہے میری چاہت پر بھروسہ ہے بھرم ان کا مٹانا اب مجھے اچھا نہیں لگتا نشیمن میرے دل کا جب سے تنکا تنکا ...

    مزید پڑھیے

    ایسا نہیں سلام کیا اور گزر گئے

    ایسا نہیں سلام کیا اور گزر گئے جب بھی ملے کسی سے تو دل میں اتر گئے ظلم و ستم کے آگے کبھی جو جھکے نہیں ان کے نصیب ان کے مقدر سنور گئے کردار بیچ دینے کا انجام یہ ہوا دل میں اترنے والے نظر سے اتر گئے کچھ کیفیت عجیب رہی اپنی دوستو کی دوستی کسی سے تو حد سے گزر گئے بچوں کی بھوک ماں کی ...

    مزید پڑھیے

    ہم قلندر ہیں ہمیں آتا ہے فاقہ کرنا

    ہم قلندر ہیں ہمیں آتا ہے فاقہ کرنا ہم نے سیکھا ہی نہیں کوئی تماشہ کرنا رازداں بن کے رہو کچھ تو سلیقے سیکھو راز پر اتنا بھی مشکل نہیں پردہ کرنا یوں ہی دیکھا ہے کئی بار تری محفل میں کتنا آساں ہے کسی شخص کو رسوا کرنا یاد ہے خوب مجھے میرے لیے رب کے حضور ماں کا رو رو کے دعا کرنا وہ ...

    مزید پڑھیے

    اب حقیقت لگ رہا ہے میرا افسانہ مجھے

    اب حقیقت لگ رہا ہے میرا افسانہ مجھے ساری دنیا کہہ رہی ہے تیرا دیوانہ مجھے میں اٹھا تو کون ہونٹوں سے لگائے گا انہیں مدتوں ڈھونڈا کریں گے جام و پیمانہ مجھے یہ محبت کا اثر ہے یا مرا دیوانہ پن صحن گلشن سا نظر آتا ہے ویرانہ مجھے اے اداسی کون سی منزل پہ لے آئی ہے تو اپنا چہرہ بھی نظر ...

    مزید پڑھیے

    تری صورت مجھے بتاتی ہے

    تری صورت مجھے بتاتی ہے یاد میری تجھے بھی آتی ہے اس کے اک بار دیکھنے کی ادا دل میں سو حسرتیں جگاتی ہے میرے دل میں وہ آئے ہیں ایسے جیسے آنگن میں دھوپ آتی ہے خواب میں جب بھی دیکھتا ہوں اسے نیند آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے اپنی مرضی سے ہم نہیں چلتے کوئی طاقت ہمیں چلاتی ہے ہم ہیں تہذیب ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2