ہر ایک ہاتھ میں پتھر ہے کیا کیا جائے
ہر ایک ہاتھ میں پتھر ہے کیا کیا جائے
یہ آئنے کا مقدر ہے کیا کیا جائے
بنا لیا ہے اسے مرکزنظر میں نے
سراپا حسن کا پیکر ہے کیا کیا جائے
وہ چاہے جان بھی لے لے مری تو ہے منظور
مرا بھروسہ اسی پر ہے کیا کیا جائے
اگر وہ چاہے بھی اک پل تو جی نہیں سکتا
اجل کا وقت مقرر ہے کیا کیا جائے
چلا گیا ہے وہ مقتل سے قتل کر کے مجھے
یہ جرم بھی مرے سر پر ہے کیا کیا جائے
کوئی محل میں رہے اور کسی کو چھت نہ ملے
یہ اپنا اپنا مقدر ہے کیا کیا جائے
جو فخر کرتا رہا ہے مرے اصولوں پر
وہ شخص مجھ سے بھی بہتر ہے کیا کیا جائے
جنون مجھ کو ہے ساحل تلک پہنچنے کا
مگر یہ غم کا سمندر ہے کیا کیا جائے