Mohammad Ali Sahil

محمد علی ساحل

محمد علی ساحل کی غزل

    جستجو تیری طرح غم تری قربت کیا ہے

    جستجو تیری طرح غم تری قربت کیا ہے سوچتا رہتا ہوں آخر یہ محبت کیا ہے ہم نے لوگوں سے بہت ذکر سنا تھا لیکن ان کو دیکھا تو یہ جانا کہ قیامت کیا ہے وحشی دنیا ہے ترا پیار نہیں سمجھے گی اپنے جذبات دکھانے کی ضرورت کیا ہے یہ بھی قدرت کا کرشمہ ہے کہ دنیا میں کوئی آج تک یہ نہ سمجھ پایا کہ ...

    مزید پڑھیے

    ہوش کھو کر جوش میں کچھ اس طرح میں بہہ گیا

    ہوش کھو کر جوش میں کچھ اس طرح میں بہہ گیا کیا مجھے کہنا تھا اس سے اور کیا کیا کہہ گیا اس کی جانب دیکھ کر آخر یہ مجھ کو کیا ہوا ایک سچ ہونٹوں پہ میرے آتے آتے رہ گیا جو اثاثہ زندگی کا اس نے جوڑا عمر بھر موت کا سیلاب جب آیا تو سب کچھ بہہ گیا ظلم کی بنیاد پر اس نے بنایا تھا محل صبر کی ...

    مزید پڑھیے

    تو اگر با اصول ہو جائے

    تو اگر با اصول ہو جائے رحمتوں کا نزول ہو جائے پیار اتنا کرو کہ پتھر بھی ایسے پگھلے کہ پھول ہو جائے ان سے ملنے میں ڈر یہ لگتا ہے کوئی ہم سے نہ بھول ہو جائے آئنہ آئنہ ہی رہتا ہے چاہے جتنی بھی دھول ہو جائے غم نہ ہو زندگی اگر تجھ میں تیرا ہونا فضول ہو جائے دل سے توبہ کرے اگر ...

    مزید پڑھیے

    جتن کرتا تو ہوں لیکن یہ بیماری نہیں جاتی

    جتن کرتا تو ہوں لیکن یہ بیماری نہیں جاتی جو میرے خون میں شامل ہے خود داری نہیں جاتی یہ اس کا کام ہے فرقہ پرستی چھوڑ دے کیسے سیاست کچھ بھی کر لے اس کی مکاری نہیں جاتی وہ بوڑھا شخص اپنی جان تک نیلام کر بیٹھا مگر افسوس اس کے گھر کی دشواری نہیں جاتی سلایا ہے فقط پانی پلا کر اس نے ...

    مزید پڑھیے

    راہ حق میں تجھے ہستی کو مٹانا ہوگا

    راہ حق میں تجھے ہستی کو مٹانا ہوگا دیکھنا پھر تری ٹھوکر میں زمانہ ہوگا رونے والے تجھے ہنستے ہوئے پھولوں کی طرح ساری دنیا کو ہنر اپنا دکھانا ہوگا بے وفا ہو کے بھی تو اتنی مقدس کیوں ہے زندگی آج تجھے راز بتانا ہوگا وقت رخصت یہی کہتی تھیں برستی آنکھیں پاس میرے تجھے پھر لوٹ کے آنا ...

    مزید پڑھیے

    مری طرف سے نگاہیں تو وہ ہٹا لے گا

    مری طرف سے نگاہیں تو وہ ہٹا لے گا وہ اپنے ذہن سے کیسے مجھے نکالے گا لبوں پہ پھول محبت کے جو سجا لے گا اسے حریف بھی بڑھ کر گلے لگا لے گا گنہ گار نہ بن اس کو بد دعا دے کر غرور اس کا اسے خود ہی مار ڈالے گا ہر ایک آگ کو وہ روشنی سمجھتا ہے میں چوک جاؤں تو وہ انگلیاں جلا لے گا بہت سنبھال ...

    مزید پڑھیے

    بزدلی تو وہ کر نہیں سکتا

    بزدلی تو وہ کر نہیں سکتا جو ہے سچا وہ ڈر نہیں سکتا جسم دنیا بھلے ہی دفنا دے پیار زندہ ہے مر نہیں سکتا بھوک میں صرف چاہیے روٹی پیٹ باتوں سے بھر نہیں سکتا جھوٹ چاہے بلند ہو کتنا سچ کے آگے ٹھہر نہیں سکتا آپ دیکھیں تو اس کا حسن بڑھے آئنہ خود سنور نہیں سکتا جو بھی ساحل کا ہے ...

    مزید پڑھیے

    غربت کا اب مذاق اڑانے لگے ہیں لوگ

    غربت کا اب مذاق اڑانے لگے ہیں لوگ دولت کو سر کا تاج بتانے لگے ہیں لوگ تہذیب شہر کتنی بدل دی ہے وقت نے اپنی روایتوں کو بھلانے لگے ہیں لوگ اللہ ان کی عقل کا پردا ذرا ہٹا پھر اپنی بیٹیوں کو جلانے لگے ہیں لوگ حد ہو چکی ہے اب تو مرے انکسار کی کمتر سمجھ کے مجھ کو ستانے لگے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    یہ درد کا ہے مسلسل جو سلسلہ کیوں ہے

    یہ درد کا ہے مسلسل جو سلسلہ کیوں ہے ٹھہر ٹھہر کے کوئی دل میں جھانکتا کیوں ہے نہیں ہے کوئی تعلق اگر مرا تجھ سے تو پھر یہ چہرا ترا زرد زرد سا کیوں ہے فریب کھا کے بھی وعدے پہ اعتبار کیا ثبوت پھر بھی وفا کا وہ مانگتا کیوں ہے اگر ہے جیتنا مقصد تو پھر بتائے کوئی وہ جان بوجھ کے بازی کو ...

    مزید پڑھیے

    حادثہ تو بس اک بہانہ تھا

    حادثہ تو بس اک بہانہ تھا روح کو جسم چھوڑ جانا تھا بے اثر سب دوائیں ہوتی رہیں زخم کم بخت بھی پرانا تھا کیسے کہتا میں الوداع اس کو اس کے دل میں مرا ٹھکانہ تھا قطرہ قطرہ تھا غم سمندر میں سیپیوں میں اسے سجانا تھا مفلسی میں اکیلا چھوڑ آئے ساتھ جس کا تمہیں نبھانا تھا راہ پرخار تھی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2