ہم قلندر ہیں ہمیں آتا ہے فاقہ کرنا

ہم قلندر ہیں ہمیں آتا ہے فاقہ کرنا
ہم نے سیکھا ہی نہیں کوئی تماشہ کرنا


رازداں بن کے رہو کچھ تو سلیقے سیکھو
راز پر اتنا بھی مشکل نہیں پردہ کرنا


یوں ہی دیکھا ہے کئی بار تری محفل میں
کتنا آساں ہے کسی شخص کو رسوا کرنا


یاد ہے خوب مجھے میرے لیے رب کے حضور
ماں کا رو رو کے دعا کرنا وہ سجدہ کرنا


آنسوؤں کو کبھی گرنے نہ دیا پلکوں سے
مجھ کو آیا ہی نہیں پیار کو رسوا کرنا


عشق یہ کون سی منزل پہ مجھے لے آیا
آئنہ سامنے رکھنا تجھے سوچا کرنا


اپنے اجداد سے ساحل یہ ہنر آیا ہے
راہ حق میں نہ کبھی جان کی پروا کرنا