مری طرف سے نگاہیں تو وہ ہٹا لے گا
مری طرف سے نگاہیں تو وہ ہٹا لے گا
وہ اپنے ذہن سے کیسے مجھے نکالے گا
لبوں پہ پھول محبت کے جو سجا لے گا
اسے حریف بھی بڑھ کر گلے لگا لے گا
گنہ گار نہ بن اس کو بد دعا دے کر
غرور اس کا اسے خود ہی مار ڈالے گا
ہر ایک آگ کو وہ روشنی سمجھتا ہے
میں چوک جاؤں تو وہ انگلیاں جلا لے گا
بہت سنبھال کے رکھا ہے آنسوؤ تم کو
مری طرح تمہیں آنکھوں میں کون پالے گا
اگر جنون کی حد سے گزر گیا دریا
تو اپنے ساتھ وہ ساحلؔ کو بھی بہا لے گا