حادثہ تو بس اک بہانہ تھا
حادثہ تو بس اک بہانہ تھا
روح کو جسم چھوڑ جانا تھا
بے اثر سب دوائیں ہوتی رہیں
زخم کم بخت بھی پرانا تھا
کیسے کہتا میں الوداع اس کو
اس کے دل میں مرا ٹھکانہ تھا
قطرہ قطرہ تھا غم سمندر میں
سیپیوں میں اسے سجانا تھا
مفلسی میں اکیلا چھوڑ آئے
ساتھ جس کا تمہیں نبھانا تھا
راہ پرخار تھی مگر مجھ کو
اپنا دامن بھی خود بچانا تھا
وہ نہ سمجھا اصول کی خوشبو
اس کا انداز تاجرانہ تھا
ہم مناتے رہے جسے ہر دم
اس کی عادت میں روٹھ جانا تھا