Mohammad Ahmad Ramz

محمد احمد رمز

نئی غزل کے ممتاز شاعر

Prominent New Ghazal poet

محمد احمد رمز کی غزل

    چار سو سیل سپاہ مہ و اختر تیرا

    چار سو سیل سپاہ مہ و اختر تیرا سرحد شب سے گزرتا ہوا لشکر تیرا بے کراں تو ہی محاکات شب و روز میں ہے دشت ظلمت ترا رہوار منور تیرا کرۂ باد پہ صد رنگ مناظر تیرے حلقۂ ارض میں یک نقش سمندر تیرا حرف قرطاس جہت گیر ہے تفسیر تری عکس آئینۂ اورنگ ہے جوہر تیرا دام گرداب میں بپھری ہوئی ...

    مزید پڑھیے

    میرے لیے کیا شور بھنور کا کیا موجوں کی روانی

    میرے لیے کیا شور بھنور کا کیا موجوں کی روانی میری پیاس کے ساحل تک ہے تیرا بہتا پانی سارے امکانات میں روشن صرف یہی دو پہلو ایک ترا آئینہ خانہ اک میری حیرانی آج ہوں میں اپنے بستر پر کروٹ کروٹ بوجھل میری نیند سے آ کر الجھی اک بے رنگ کہانی ملنا جلنا رسم ہی ٹھہرا پھر کیا شکوہ ...

    مزید پڑھیے

    گھٹ کے مر جانے سے پہلے اپنی دیوار نفس میں در نکالو

    گھٹ کے مر جانے سے پہلے اپنی دیوار نفس میں در نکالو درد کے ویراں کھنڈر سے منظر بے نام کو باہر نکالو اب یہ عالم ہے کہ ہر سو ماورائے منتہا تک ہیں اڑانیں آشیاں تو اک قفس ہے باہر آ بھی جاؤ بال و پر نکالو خود تمہارے اپنے زد پر آ رہے ہیں اتنی سفاکی بھی چھوڑو کچھ زیادہ ہو گیا ہے تیغ ...

    مزید پڑھیے

    خلا میں ہو ارتعاش جیسے کچھ ایسا منظر ہے اور میں ہوں

    خلا میں ہو ارتعاش جیسے کچھ ایسا منظر ہے اور میں ہوں یہ کرب تخلیق کا دھواں ہے جو میرے اندر ہے اور میں ہوں ہزار رنگوں میں اپنی لہروں پہ شام ابھرتی ہے ڈوبتی ہے چہار اطراف آئینہ ہیں وہ زلف ابتر ہے اور میں ہوں مرے سوا کچھ نہیں کہیں بھی ازل ابد ایک خواب مستی زمیں قدم بھر ہے میرے نیچے ...

    مزید پڑھیے

    اٹھے غبار شور نفس تو وحشت مت کرنا

    اٹھے غبار شور نفس تو وحشت مت کرنا دشت دروں سے ہجرت کیسی ہجرت مت کرنا دریا سبزہ پھول ستارے اچھی خواہش ہے پتھر کانٹے دھوپ گرد سے نفرت مت کرنا اک سچ کی آواز میں ہیں جینے کے ہزار آہنگ لشکر کی کثرت پہ نہ جانا بیعت مت کرنا نیزۂ صبح پہ لے کر چلنا کل کا سورج شب میں مگر اعلان نوید نصرت ...

    مزید پڑھیے

    شورش خاکستر خوں کو ہوا دینے سے کیا

    شورش خاکستر خوں کو ہوا دینے سے کیا لمس آنکھوں کو بدن کا ذائقہ دینے سے کیا ہو چکی ہے گم صدائے بازگشت غیب بھی پتھروں کو اب کوئی نقش نوا دینے سے کیا دھند کی گہری تہوں میں سارے پیکر دفن ہیں اپنی بچھڑی ساعتوں کو اب صدا دینے سے کیا اک نہال خستہ کی صورت کھڑا ہوں راہ میں مجھ کو آنے والی ...

    مزید پڑھیے

    لفظ و بیاں کے پس منظر تک اک قوس امکانی اور

    لفظ و بیاں کے پس منظر تک اک قوس امکانی اور میری جست ہنر کو لکھ دے کوئی سمت معانی اور بست و کشاد بازو کیا ہے سانسوں کی ہلچل کے سوا چاند گھرا ہو جب موجوں میں بڑھتی ہے طغیانی اور سحر سواد بحر و بر سے کتنے طوفاں ابھرتے ہیں اب اس شورش آب و گل کو مٹی اور نہ پانی اور دشت نوا پر چھا جائے ...

    مزید پڑھیے

    گل رنگ پیکروں میں رخ زرد میں ہی تھا

    گل رنگ پیکروں میں رخ زرد میں ہی تھا ہر سمت شعلگی تھی مگر سرد میں ہی تھا تو نے برہنا کر دیا میرے سکوت کو اے شورش جہاں ترا ہمدرد میں ہی تھا تو نے لباس رنگ سمجھ کر پہن لیا اے بوالہوس وہ پیرہن درد میں ہی تھا کس کی تلاش تھی یہ مجھے خود خبر نہیں پرچھائیوں کی اوٹ میں شب گرد میں ہی ...

    مزید پڑھیے

    نواح دل میں یہ میری مثال جلتے رہیں

    نواح دل میں یہ میری مثال جلتے رہیں خس‌ و گلاب نبات و نہال جلتے رہیں کبھی نہ سرد پڑے گرمیٔ نشاط نفس تمام پیکر فکر و خیال جلتے رہیں یہ جبر وقت ہے کیسا کہ اس کی یاد کے چاند اگیں تو پھر سر شاخ ملال جلتے رہیں ہوائے ہجر ابھی تک ہے محو خواب کہیں فصیل جاں پہ چراغ وصال جلتے رہیں یوں ہی ...

    مزید پڑھیے

    بھٹک جائے گا دل عیاریٔ ادراک سے نکلیں

    بھٹک جائے گا دل عیاریٔ ادراک سے نکلیں یہ زنجیر گراں توڑیں ہم اس پیچاک سے نکلیں نہ موت آئے جسے ایسا کوئی کردار ہو اپنا کہانی بن کے ایسی دیدۂ نمناک سے نکلیں یہی پرچم نشان لشکر باطل نہ بن جائے ہم اک خنجر سہی لیکن کف سفاک سے نکلیں صبا بن کر ابھی کرنے ہیں طے کتنے سفر ہم کو ہم اس مٹی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 4