گل رنگ پیکروں میں رخ زرد میں ہی تھا
گل رنگ پیکروں میں رخ زرد میں ہی تھا
ہر سمت شعلگی تھی مگر سرد میں ہی تھا
تو نے برہنا کر دیا میرے سکوت کو
اے شورش جہاں ترا ہمدرد میں ہی تھا
تو نے لباس رنگ سمجھ کر پہن لیا
اے بوالہوس وہ پیرہن درد میں ہی تھا
کس کی تلاش تھی یہ مجھے خود خبر نہیں
پرچھائیوں کی اوٹ میں شب گرد میں ہی تھا
وہ ٹکڑے ٹکڑے میرے ہی اعضائے جسم تھے
کس سے کہوں کہ قاتل بے درد میں ہی تھا
معنی کے جال بنتا ہوا رمزؔ دوردور
الفاظ کی فضا میں تہ گرد میں ہی تھا