Mohammad Ahmad Ramz

محمد احمد رمز

نئی غزل کے ممتاز شاعر

Prominent New Ghazal poet

محمد احمد رمز کی غزل

    اس کے جنوں کا خواب ہے کن تعبیروں میں

    اس کے جنوں کا خواب ہے کن تعبیروں میں اچھا وہ لگتا ہے جکڑا زنجیروں میں اب تو میرے لہو تک بات پہنچتی ہے کون سا رنگ بھروں اس کی تصویروں میں بن جاتے ہیں ایک خبر ڈھہ جانے کی اپنا شمار بھی ہے کچی تعمیروں میں اس کا ترکش خالی ہونے والا ہے میرے نام کا تیر ہے کتنے تیروں میں مجھ سے سیکھو ...

    مزید پڑھیے

    تھی مری ہم سفری ایک دعا اس کے لیے

    تھی مری ہم سفری ایک دعا اس کے لیے یہ بچھڑنا ہے بڑی سخت سزا اس کے لیے اب کوئی سلسلۂ ترک و طلب ہی نہ رہا آنکھ میں ایک بھی منظر نہ رکا اس کے لیے اس کے خوابوں کو نہ دے موسم تعبیر مرا کوئی پیغام نہ لے جائے صبا اس کے لیے حرف کو لفظ نہ کر لفظ کو اظہار نہ دے کوئی تصویر مکمل نہ بنا اس کے ...

    مزید پڑھیے

    لفظوں کا نیرنگ ہے میرے فن کے جادو سے

    لفظوں کا نیرنگ ہے میرے فن کے جادو سے اک اک رنگ الگ کر سکتا ہوں میں خوشبو سے دونوں پریشاں دونوں بوجھل دونوں ہی گھنگھور گہرا رشتہ ہے بادل کا تیرے گیسو سے میری پیشانی پر جھلکی میرے لہو کی آگ رات ڈھلے کچھ چاند سا اگنا اس کے پہلو سے اچھی صورت کوئی اچانک سامنے جب آ جائے اپنی ہی انگلی ...

    مزید پڑھیے

    محیط پاک پہ موج ہنر میں روشن ہوں

    محیط پاک پہ موج ہنر میں روشن ہوں میں اعتبار کف کوزہ گر میں روشن ہوں میں حاشیہ ہوں ترے جلوہ زار حیرت کا میں تیرے ساتھ ترے بام و در میں روشن ہوں میں آپ اپنا اجالا ہوں شب کے دامن پر میں آپ اپنی دعائے سحر میں روشن ہوں بجھا سکے گی نہ مجھ کو ہوائے سود و زیاں میں طاق ماحصل خیر و شر میں ...

    مزید پڑھیے

    بوجھ سا بڑھ جاتا ہے دل پر شام ڈھلے

    بوجھ سا بڑھ جاتا ہے دل پر شام ڈھلے رک جاتی ہیں سانسیں پل بھر شام ڈھلے کھل اٹھتا ہے اس کی یاد کا اک اک رنگ جاگ اٹھتے ہیں کیا کیا منظر شام ڈھلے آگ مرے شریانوں کی لو دینے لگی پگھلا اس کی انا کا پتھر شام ڈھلے گہرے ہوں گے سرگوشی کے سائے ابھی کھل جائے گا لپٹا بستر شام ڈھلے کس کو بتاؤں ...

    مزید پڑھیے

    میرے لہو کی سرشاری کیا اس کی فضا بھی کتنی دیر

    میرے لہو کی سرشاری کیا اس کی فضا بھی کتنی دیر تیرے کف نازک پہ رہے گا رنگ حنا بھی کتنی دیر اس کی نظر کی ہلکی سی جنبش کیا کیا جوہر رکھتی ہے لا سکتا ہے تاب تماشا آئینہ بھی کتنی دیر اب کے وصل کا موسم یوں ہی بے چینی میں بیت گیا اس کے ہونٹوں پر چاہت کا پھول کھلا بھی کتنی دیر کوئی تکلم ...

    مزید پڑھیے

    تشنگی تپتی ہواؤں سے بجھاتے دیکھا

    تشنگی تپتی ہواؤں سے بجھاتے دیکھا پھر اسے ریت کے دریا میں نہاتے دیکھا کوئی موسم ہو علامت تھا وہ شادابی کی در بدر آج اسے خاک اڑاتے دیکھا اپنی مٹھی میں دبائے تھا وہ صدیاں لیکن سر کو اک لمحے کے آنچل میں چھپاتے دیکھا کیسے کیسے در نایاب ملے مٹی میں موج در موج اسے اشک بہاتے ...

    مزید پڑھیے

    جلوس تیغ و علم جانے کس دیار کا ہے

    جلوس تیغ و علم جانے کس دیار کا ہے پس غبار بھی اک سلسلہ غبار کا ہے خلائے جاں کا سفر اور پھر تن تنہا یہ راستہ بھی بڑے جبر و اختیار کا ہے تم آ گئے ہو تو مجھ کو ذرا سنبھلنے دو ابھی تو نشہ سا آنکھوں میں انتظار کا ہے مقام بے خبری ہے یہاں سے کتنی دور کہ شہر دل میں بڑا شور شہریار کا ...

    مزید پڑھیے

    پل پل مری خواہش کو پھر انگیز کیے جائے

    پل پل مری خواہش کو پھر انگیز کیے جائے مجھ کو وہ مرے ظرف میں لبریز کیے جائے یہ کون ہے جو آگ سی دہکائے لہو میں اندر سے مری پیاس کو چنگیز کیے جائے سودا ہے کوئی سر میں تو پھر ٹوٹے گی زنجیر دیوانہ ابھی رقص جنوں تیز کیے جائے گویا مری خوشبو کو وہ پہچان گیا ہے اچھا ہے کہ مجھ سے ابھی ...

    مزید پڑھیے

    دیئے منڈیروں کے روشن قطار ہونے لگے

    دیئے منڈیروں کے روشن قطار ہونے لگے لویں تراشنے والے فرار ہونے لگے دبیز پردوں پہ مانوس لہریں اٹھنے لگی ہوا کے ہاتھ دریچوں سے پار ہونے لگے عدو بھی بھرنے لگے دم تری رفاقت کا اب ایسے ویسے تماشے بھی یار ہونے لگے اب آنے والی کسی رت کا انتظار ہو کیا جڑوں سے اپنی شجر داغ دار ہونے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4