Mohammad Afsar Raunqi

محمد افسر رونقی

  • 1947

محمد افسر رونقی کی غزل

    کب وہ کسی حسین سے کمتر دکھائی دے

    کب وہ کسی حسین سے کمتر دکھائی دے مجھ کو نہ اس کا کوئی بھی ہمسر دکھائی دے ہے بے وفا کوئی تو کوئی خوگر ستم مہر و وفا کا کوئی تو پیکر دکھائی دے کیا پر سکوں نظام تھا کل تیری بزم کا ہر سمت آج اک نیا محشر دکھائی دے اس کے ہزار رنگ ہیں اس کے ہزار روپ قاتل دکھائی دے کبھی دلبر دکھائی ...

    مزید پڑھیے

    غم ہے اک بوجھ جسے دل پہ اٹھائے رکھیے

    غم ہے اک بوجھ جسے دل پہ اٹھائے رکھیے عظمت عشق کی توقیر بڑھائے رکھیے ٹوٹ کر آنکھ سے مٹی میں نہ مل جائیں کہیں اشک غم ہیں انہیں دامن پہ سجائے رکھئے بے رخی ان کی محبت میں بدل جائے گی شمع امید ابھی دل میں جلائے رکھیے دامن ضبط نہ چھٹ جائے کہیں ہاتھوں سے اشک غم کو یوں ہی پلکوں میں ...

    مزید پڑھیے

    تو ادا شناس وفا نہیں تو میں دل لگا کے کروں گا کیا

    تو ادا شناس وفا نہیں تو میں دل لگا کے کروں گا کیا تو نہ نغمہ ساز حیات ہے ترے گیت گا کے کروں گا کیا اسی رہ گزر پہ ملے تھے ہم یہیں ساتھ ساتھ چلے تھے ہم یہیں میری منزل شوق ہے میں یہاں سے جا کے کروں گا کیا تو ہے ہر نفس مری زندگی یہ ہے میرا مسلک بندگی تری یاد جزو حیات ہے تجھے میں بھلا کے ...

    مزید پڑھیے

    اک جرم محبت کی کیا اور سزا ہوگی

    اک جرم محبت کی کیا اور سزا ہوگی تنہائی کے غم ہوں گے مرنے کی دعا ہوگی جب حسن کے ہاتھوں سے تکمیل وفا ہوگی وہ صبح بھی کیا ہوگی وہ شام بھی کیا ہوگی جائے تو کہاں جائے اب چھوڑ کے رسوائی اس کی بھی گزر کیسے اب میرے سوا ہوگی اک جشن مسرت میں کچھ ڈوبتی آوازیں ٹوٹے ہوئے شیشوں کی پر درد صدا ...

    مزید پڑھیے